رسائی کے لنکس

اُسامہ بن لادن کی پناہ گاہ کو مسمار کرنے کا سلسلہ جاری


اُسامہ بن لادن کی پناہ گاہ کو مسمار کرنے کا سلسلہ جاری

اُسامہ بن لادن کی پناہ گاہ کو مسمار کرنے کا سلسلہ جاری

پاکستان کے شمالی شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کی آخری پناہ گاہ کو مسمار کرنے کا سلسلہ اتوار کو بھی وقفے وقفے سے جاری رہا۔

فوجی تنصیبات کے بیچ واقع رہائشی علاقے بلال ٹاؤن میں اس تین منزلہ عمارت کو گرانے کا آغاز ہفتہ کی شب ہوا تھا۔

ایبٹ آباد انتظامیہ اور رہائشوں کا کہنا ہے کہ آپریشن شروع ہونے سے قبل فوج اور پولیس کے اہلکاروں نے عمارت اور اس کے اطراف میں حفاظتی حصار قائم کیا اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

مقامی ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والے مناظر میں اُسامہ بن لادن کے گھر کی بیرونی دیوار کا کچھ حصہ گرا ہوا دیکھائی دیا جب کہ تعمیراتی کام میں استعمال ہونے والی کئی بڑی مشینوں کی مدد سے مرکزی عمارت کو بھی مسمار کیا جا رہا تھا۔

منہدم شدہ عمارت کے ملبے کو ٹرکوں میں لاد کر منتقل کیا جا رہا ہے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات جب برقی قمقموں کی روشنی میں عمارت کو مسمار کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا تو عمارت کے باہر فوجی اہلکار تعینات تھے لیکن اتوار کی صبح یہ ذمہ داری پولیس کو سونپ دی گئی۔

ایبٹ آباد پولیس کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے سابق رہنما کے گھر کو مسمار کرنے کے کام میں سکیورٹی فورسز اور مقامی انتظامیہ حصہ لے رہی ہے۔

عمارت کو منہدم کرنے کے اچانک فیصلے کے بارے میں تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

دو مئی 2011ء کو طلوع آفتاب سے قبل کی گئی یک طرفہ کارروائی میں امریکی اسپیشل فورسز کے کمانڈوز اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے بعد اُس کی لاش اپنے ساتھ لے گئے تھے، جس کو بعد میں سمندر برد کر دیا گیا۔

اس آپریشن کے بعد سے یہ عمارت سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہے، اور امریکی سی آئی اے کے اہلکاروں کے علاوہ پاکستانی فوج کے خفیہ اداروں کے عہدے دار اور اس تمام معاملے کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کے اراکین بھی اس عمارت کا کئی مرتبہ تفصیلی معائنہ کر چکے ہیں۔

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد مقامی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سمیت کئی سفارت کاروں نے بھی القاعدہ کے رہنما کی پناہ تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے، جب کہ ایسی ہی ایک کوشش کرنے کی وجہ سے ڈینمارک کے سفیر اور اس کی اہلیہ کو ایبٹ آباد پولیس نے کچھ دیر اپنی تحویل میں بھی رکھا۔

سیاحتی اعتبار سے مشہور اس شہر کے لوگ عمارت کو مسمار کرنے کے بارے میں متضاد موقف رکھتے ہیں کیوں کہ بعض کے خیال میں اس کو ایک سیاحتی مقام میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

لیکن امریکی اور پاکستانی حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ اگر عمارت کو مسمار نا کیا گیا تو یہ القاعدہ کے حامیوں کی توجہ کا مرکز بنی رہے گی۔

XS
SM
MD
LG