رسائی کے لنکس

”جعلی ڈگریوں والے قانون ساز مجرمانہ فعل کے مرتکب قرار پائیں گے“

  • حسن سید

قومی اسمبلی

قومی اسمبلی

اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے ساتھ مل کر قانون سازوں کی تعلیمی اسناد کی جانچ پڑتال کے دوران جن ممبران کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوئیں وہ مجرمانہ فعل کے مرتکب قرار پائیں گے اوراپنی رکنیت کے لیے نا اہل ہو جائیں گے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ اسے پیر کے روز سپریم کورٹ کی طرف سے قانون سازوں کی تعلیمی اسناد کی جانچ پڑتال کرنے اور جعلی دستاویزات جمع کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے احکامات موصول ہو گئے ہیں۔

کمیشن کے ترجمان اشتیاق احمد خان نے وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے ساتھ مل کر قانون سازوں کی تعلیمی اسناد کی جانچ پڑتال کے دوران جن ممبران کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوئیں وہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق مجرمانہ فعل کے مرتکب قرار پائیں گے اوراپنی رکنیت کے لیے نا اہل ہو جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیشن عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق اس بات کا پابند ہے کہ جلد از جلد پوری دیانتداری اور شفاف طریقے سے کارروائی عمل میں لائے۔ ترجمان نے کہا کہ قواعد کی رو سے ”جن ممبران پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کی ڈگریاں صحیح ہوئیں تو وہ تو بات ختم ہو جائے گی لیکن جن کے دستاویز جعلی ہوں گے ان پر متعلقہ ڈسٹرکٹ اور سیشن عدالتوں میں مقدمہ چلایا جائے گا“۔

قانون سازوں کی جعلی تعلیمی اسناد کا تنازعہ حال ہی میں اس وقت ابھرا جب مخالفین نے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی ڈگریوں کو عدالت میں چیلنج کیا اور جن کے جعلی ثابت ہونے پر تقریباََ نو اراکین کو مجبوراََ مستعفی ہو نا پڑا۔

ایک اندازے کے مطابق قو می اور صوبائی اسمبلیوں کے تقریباََ دڈیڑھ سو ممبران کے پاس بوگس تعلیمی اسناد ہونے کا شبہ ہے ۔

باور کیا جاتا ہے کہ ان میں زیادہ تعداد اپوزیشن جماعت مسلم لیگ نواز کے اراکین کی ہے لیکن اس کے باوجود یہ جماعت اسناد کی جانچ پڑتال کر کے ممبران کو نا اہل قراد دیے جانے کی ضرورت پر زور دے رہی ہے ۔ جماعت کے ایک سینیئر رہنما ظفر اقبال جھگڑا کا کہنا ہے کہ قانون سازوں کی نااہلیت کے بھلے ہی ملکی سیا ست پر سنگین اثرات مرتب ہوں لیکن ان کے بقول یہ نہایت ضروری ہے کہ اسمبلیوں کو دھوکہ دہی کے مرتکب ممبران سے پاک کیا جائے۔ جب کہ مسلم لیگ (ق) کے ایک رہنما مشاہد حسین کا بھی کہنا ہے کہ ان کی جماعت سپریم کورٹ کے فیصلے کی مکمل حمایت کر تی ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ اسمبلیوں اور جمہوریت کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے جعلی ڈگریاں رکھنے والوں کو نا اہل قرار دے کر ان کی نشستوں پر ضمنی انتخابات منعقد کرائے جائیں ۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں یہ شرط عائد کی تھی کہ انتخابات لڑنے کے لیے اُمیدوار کے پاس بی اے کی ڈگری ہونا لازمی ہے۔ فروری 2008ء کے عام انتخابات کے دوران بھی یہ شرط موجود تھی جسے بعد ازاں اس وقت کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے ختم کیا۔

XS
SM
MD
LG