رسائی کے لنکس

6400 میٹربلند پہاڑ سرکرنے والی پہلی پاکستانی خاتون


ثمینہ اپنے ساتھی کوہ پیماؤں کے ساتھ

ثمینہ اپنے ساتھی کوہ پیماؤں کے ساتھ

چاشکن ماؤنٹین سر کرنے کے بعد ثمینہ نے ’ونٹر ایکسپڈیشن‘ کے سلسلے میں منفی 25سے منفی 30درجے سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں 6050میٹر بلند منگلیہ(Mingligh)ماؤنٹین سر کرنے کا ارادہ کیا مگر اس شدید سرد موسم سے بچاؤ کے لیے خصوصی لباس نہ ہونے کی وجہ سے وہ اسے مکمل سر نہ کرسکیں اورمنزل سے تقریباً 150میٹر کے فاصلے سے ہی واپس پلٹ آئیں۔

آسمان سے باتیں کرتے ہوئے بلند پہاڑوں کو سر کرنے کے لیے پہاڑ جیسا حوصلہ بھی چاہیے ہوتا ہے اور اس خطرناک کھیل میں اکثرپُر خطر چوٹیاں اپنے سر کرنے والوں کی جان بھی لے لیا کرتی ہیں۔

پاکستان میں دنیا کی دوسری بلند اور خطرناک ترین چوٹی K-2، کلر ماؤنٹین یعنی قاتل پہاڑ کہلانے والے نانگا پربت اور دیگر کئی بلند پہاڑی سلسلے واقع ہیں جہاں دنیا بھر سے کوہ پیما اپنے شوق کی تسکین کے لیے آتے ہیں لیکن 20سالہ ثمینہ بیگ نے 6400میٹر بلند چاشکن ماؤنٹین سرکرکے پاکستان کی پہلی ایسی خاتون کوہ پیما ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے جس نے اتنی بلند چوٹی سر کی ہے۔

گلگت بلتستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں شمشال سے تعلق رکھنے والی ثمینہ بیگ چھ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ بچپن سے ہی وہ اپنے بھائیوں اور خاندان کے دیگر افراد کو کوہ پیمائی کرتے دیکھتی آئی ہیں اور تب ہی سے انھیں بھی یہ شوق چرایا۔

گذشتہ سال انھوں نے اپنے بڑے بھائی مرزا علی کے ساتھ اپنے حوصلے کو آزماتے ہوئے بچپن کے اس شوق کر پورا کرنے کے لیے کوہ پیمائی کی۔

علی نے بتایا کہ انھوں نے 16سال کی عمر میں کوہ پیمائی شروع کی اور اُس وقت وہ یہ سوچا کرتے تھے کہ جب ان کی بہن بڑی ہوجائے گی تو وہ اسے بھی اس کھیل میں شامل کریں گے۔”میں سوچتا تھا کہ پاکستان میں ان پہاڑی علاقوں کے لوگ زیادہ تردوسرے کوہ پیماؤں کے ساتھ بار برداری کے لیے ہی جاتے ہیں اور بہت کم لوگ ہی اس کھیل کو اپناتے ہیں، خصوصاً خواتین تو اس خطرناک مہم کو اختیار نہیں کرتیں۔“

کوہ پیمائی کے لیے خاص قسم کی تربیت درکار ہوتی ہے مگر ثمینہ نے چاشکن ماؤنٹین کو سر کرنے سے پہلے ایسی کوئی تربیت حاصل نہیں کی ۔ اس کارنامے کے بعد ان کے بھائی نے انھیں اس کھیل کے اسرارورموز سے آگاہ کیا۔

ثمینہ اورمرزا علی

ثمینہ اورمرزا علی

علی کا کہنا تھا کہ کوہ پیمائی ایک مہنگا اور خطرناک شوق ہے اور یسی مہمات کی تربیت کے لیے یہاں کوئی خاطر خواہ تربیتی مراکز نہیں ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے چچا پاکستانی فوج میں کوہ پیما تھے اور انھوں نے اپنے چچا اور بعد ازاں استاد رجب سے پہاڑوں کو سر کرنا سیکھا اور اب اس مہم جوئی کا شوق رکھنے والوں کے لیے علی نے ’پاکستان یوتھ آوٴٹ ریچ‘ کے نام سے ایک تنظیم بنائی ہے جو کہ تربیت اور دیگر ضروری معلومات لوگوں کو فراہم کرتی ہے۔

چاشکن ماؤنٹین سر کرنے کے بعد ثمینہ نے ’ونٹر ایکسپڈیشن‘ کے سلسلے میں منفی 25سے منفی 30درجے سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں 6050میٹر بلند منگلیہ(Mingligh)ماؤنٹین سر کرنے کا ارادہ کیا مگر اس شدید سرد موسم سے بچاؤ کے لیے خصوصی لباس نہ ہونے کی وجہ سے وہ اسے مکمل سر نہ کرسکیں اورمنزل سے تقریباً 150میٹر کے فاصلے سے ہی واپس پلٹ آئیں۔

لیکن مرزا علی کے بقول اتنی شدید سردی میں اس بلندی تک کوئی خاتون آج تک نہیں پہنچ سکی ۔ اس مہم کے لیے اسلام آبادمیں ڈنمارک کے سفارتخانے نے ان سے تعاون کیا اور علی کی تنظیم نے اس مہم کو پاکستان کے سیلاب زدگان کے نام کیا تھا۔

یہ دونوں بہن بھائی اپنی اس تنظیم کے ذریعے پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ دنیا کو یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ یہاں دوسرے کھیلوں کی طرح کوہ پیمائی کے شعبے میں بھی بہت ٹیلنٹ ہے۔

XS
SM
MD
LG