رسائی کے لنکس

سیلاب زدگان کو صاف پانی کی فراہمی کی کوششیں تیز

  • حسن سید

سیلاب زدگان کو صاف پانی کی فراہمی کی کوششیں تیز

سیلاب زدگان کو صاف پانی کی فراہمی کی کوششیں تیز

سوڈس ٹیکنالوجی کے تحت گدلے پانی کو پینے کے لیے محفوظ بنانے کے لیےاسے’’پیٹ بوتل‘‘ یعنی پلاسٹک کی بوتل میں ڈال کر چھ گھنٹے تک سورج کی روشنی میں رکھنے سے اس میں 70 سے 75 ڈگری سینٹی گریڈ تک حدّت پیدا ہوتی ہےجوپانی میں موجود مضر صحت جزیات کو بہت حد تک ختم کر دیتی ہے۔

پاکستان میں سیلاب کے بعد آلودہ پانی پینے سے ہلاکتوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے امریکی امداد کے بین الاقوامی ادارے یوایس ایڈ نے حکومت اور نجی شعبے کے اشتراک سے شروع کیے گئے ’’ سوڈس‘‘ یعنی سورج کی روشنی سے پانی کی صفائی کے منصوبے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تقریباً 14 لاکھ ڈالر لاگت کے اس منصوبے سے تین لاکھ متاثرہ خاندانوں کو فائدہ پہنچے گا ۔

منگل کو اسلام آباد میں ایک تقریب میں یوایس ایڈ نے پلاسٹک کی بوتلوں کے نمونےپیش کیے جو پاکستان بھر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بھیجی جائیں گی اورصاف پانی کے حصول کے لیے اس ٹیکنالوجی کواستعمال کرنے میں متاثرین کی رہنمائی بھی کی جائے گی۔

سوڈس ٹیکنالوجی کے تحت گدلے پانی کو پینے کے لیے محفوظ بنانے کے لیےاسے’’پیٹ بوتل‘‘ یعنی پلاسٹک کی بوتل میں ڈال کر چھ گھنٹے تک سورج کی روشنی میں رکھنے سے اس میں 70 سے 75 ڈگری سینٹی گریڈ تک حدّت پیدا ہوتی ہےجوپانی میں موجود مضر صحت جزیات کو بہت حد تک ختم کر دیتی ہے۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں یوایس ایڈ کے ایک مشیر عمران شوکت نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام میں پانی صاف کرنے کے اس نئے طریقے کے بارے میں آگہی پیدا کی جائے۔

عمران شوکت

عمران شوکت

انھوں نے بتایا کہ ’’سوڈس‘‘ کو فروغ دینے کے لیے لاکھوں کی تعداد میں صاف پانی سے بھری بوتلیں متاثرہ علاقوں میں روانہ کی جا رہی ہیں تاکہ پانی پینے کے بعد سیلاب زدگان ان ہی بوتلوں کو ’’سوڈس‘‘ کے قدرتی طریقے سے پانی صاف کرنے کے لیےاستعمال کر سکیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ بوتلیں صرف گدلے پانی کو ہی صاف کر سکتی ہیں جب کہ گندے پانی کو صاف کرنے کے لیے ادارہ خصوصی ادویات کے پیکٹ بھی روانہ کر رہا ہے۔

یوایس ایڈ کے مشیر نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے ہونے والی بڑی تباہی کے بعد ان کا ادارہ صاف پانی کی فراہمی کے ڈھانچے کو ترقی دینے کے لیے اور بھی زیادہ متحرک ہو گیا ہے اور یہ کہ اس قدرتی آفت نے ادارے کی کوششوں کو متاثر نہیں بلکہ ا یک نیا عزم بخشا ہے۔

اس منصوبے کے لیے ابتدائی طور پر سوئس تعاون ادارے نے مالی اعانت فراہم کی تھی جسے تجرباتی طور پر ملک کے بعض علاقوں میں رائج بھی کیا گیا اور ادارے کے مطابق اس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے۔ لیکن تقریب میں موجود مقررین کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سطح پر ڈونرز کی طرف سے فنڈنگ کی کمی کی وجہ سے یہ پروگرام تاحال خاطرخواہ کامیابی اور مقبولیت حاصل نہیں کر سکا۔

سوئس تعاون ادارے کی ایک عہدیدار جمیلہ خاتون وارثی کے مطابق شمسی توانائی کے ذریعے پانی کو صاف بنانے کا منصوبہ پہلے ہی لاطینی امریکہ ، افریکہ اور جنوبی ایشا کے کئی ملکوں میں پہلے ہی جاری ہے اور پاکستان کے شہر حیدر آباد اور فیصل آباد میں ان کو تجرباتی بنیادوں پر چلانے کے نتائج ان کے مطابق یہ سامنے آئے کہ گندے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں خاص طور پر دست میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی۔

XS
SM
MD
LG