رسائی کے لنکس

آزاد خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہیں: سرتاج عزیز


سرتاج عزیز (فائل فوٹو)

سرتاج عزیز (فائل فوٹو)

پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں حکومت کی خارجہ پالیسی سے متعلق بحث سمیٹتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ حکومت ایک واضح، متوازن اور آزاد خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کا مقابلہ کرنے کے لیے علاقائی حکمت عملی کی ضرورت ہے اور اس پیچیدہ مسئلے سے کوئی ملک تنہا نہیں نمٹ سکتا۔

منگل کو پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں حکومت کی خارجہ پالیسی سے متعلق بحث سمیٹتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ حکومت ایک واضح، متوازن اور آزاد خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

ان کے بقول کسی بھی دوسرے ملک کی برتری و بالادستی قابل قبول نہیں جب کہ دوسرے ملکوں سے امداد کے حصول کی بجائے تجارت کو فروغ دے کر اقتصادی ترقی کو یقینی بنانا موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم جز ہے۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ خارجہ پالیسی کا تیسرا مقصد ملک کی جغرافیائی اہمیت کو مکمل طور پر بروئے کار لانے پر توجہ مرکوز کرنا ہے جس سے علاقائی اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی و اقتصادی تعلقات بڑھانے میں مدد ملے گی۔

مشیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ملک کی داخلی صورتحال کو بہتر بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور جمہوری اداروں اور معاشرے کے تمام طبقات کے تحفظ سے عالمی برادری میں پاکستان کا تشخص بہتر ہوگا۔

بھارت کو تجارتی مراعات سے متعلق خدشات پر سرتاج عزیز نے واضح کیا کہ پڑوسی ملک کے ساتھ کسی بھی تجارتی معاہدے میں ملکی مفادات کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔
مشیر خارجہ امور و قومی سلامتی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ اسٹریٹیجک مذاکرات کا عمل شروع کیا جا چکا ہے اور امریکہ پر یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ اسے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو ترجیح دینا ہوگی۔

گزشتہ ہفتے ہی قومی اسمبلی میں حکومت نے پہلی قومی داخلی سلامتی پالیسی کا مسودہ پیش کیا تھا جس میں ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے سے متعلق متعدد معاملات کا احاطہ کیا گیا۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کو داخلی سلامتی کی پالیسی کا حصہ بنایا جائے گا۔ ان کے بقول اس پر کام ہو رہا ہے اور عنقریب یہ بھی پارلیمان میں پیش کر دی جائیں گی۔

رواں سال افغانستان سے تمام بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد خطے کے مستقبل پر بھی پاکستان نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ایک پرامن و مستحکم افغانستان اس کے مفاد میں ہے۔

ادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور اسلام آباد کے اسٹریٹیجک مفادات مشترک ہیں جن میں دہشت گردی کا خاتمہ، خطے میں امن و استحکام اور اسے خوشحال بنانا شامل ہیں۔

محکمہ خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے کہا ہے کہ امریکہ علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے ساتھ کام کر رہا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان جاری اسٹریٹیجک مذاکرات اور روابط کے سلسلے میں امکان ہے کہ وزیر خارجہ جان کیری بھی جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔
XS
SM
MD
LG