رسائی کے لنکس

پاکستان کا شمار دنیا کے اُن چار ملکوں میں ہوتا ہے جہاں پولیو کا وائرس اب بھی موجود ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کے 37 اضلاع جسمانی معذوری کا باعث بننے والے پولیو وائرس سے متاثر ہیں۔

سوات کا شمار بھی ایسے ہی اضلاع میں ہوتا جہاں اس وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بدستور موجود ہے لیکن 24 اکتوبر کو انسداد پولیو کے عالمی دن کے موقع پر ملک کے دیگر حصوں کی طرح سوات میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو قطرے پلانے کی مہم شروع نہیں ہو سکی۔

اس کی وجہ بتاتے ہوئے سوات کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر بخت جمال نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ضلع میں محکمہ صحت کے عملے کے ایک ہزار سے زائد ملازمین نے تنخواہیں وقت پر نا ملنے کی وجہ سے گھر گھر جا کر پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم میں حصہ لینے سے احتجاجاً انکار کر دیا ہے۔

ڈاکٹر بخت جمال نے بتایا کہ سوات میں پانچ سال سے کم عمر 3 لاکھ 82 ہزار بچوں کو گھر گھر جا کر پولیو کے قطرے پلانے کے لیے اب متبادل انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

’’ہم متبادل عملہ استعمال کریں گے اور یہ کام (پولیو کے قطرے پلانے کا) مرحلہ وار کیا جائے گا۔ سوات کی چودہ یونین کونسلوں میں رسک (پولیو کے پھیلا کا خطرہ) زیادہ ہے جہاں یہ مہم پہلے شروع کی جائے گی۔ ہم اساتذہ اور رضا کاروں کو اس مہم میں شامل کر لیں گے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ محکمہ صحت کے ملازمین کے احتجاج کے باعث پولیو کی مہم متاثر تو ہو سکتی ہے لیکن اُن کا محکمہ کی یہ کوشش ہے کہ جلد از جلد بچوں کی ویکسینشن کا کام مکمل کر کے اس وائرس کے ممکنہ خطرے سے اُنھیں بچایا جا سکے۔

سوات سمیت مالاکنڈ ڈویژن میں 2009ء میں طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے آغاز سے قبل اس سیاحتی علاقے میں شدت پسندوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث بھی پولیو کے قطرے پلانے کی مہم متاثر ہوتی رہی۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اسی لیے اب بھی سوات کی 14 یونین کونسلوں میں اس وائرس کے پھیلنے کے خطرات زیادہ ہیں۔

حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق 1994ء تک پاکستان میں سالانہ 20 ہزار افراد پولیو سے متاثر ہوتے تھے لیکن ملک میں اس وائرس کے خلاف سرکاری سطح پرمہم شروع ہونے کے بعد سے گزشتہ سال یہ تعداد کم ہو کر 144 رہ گئی تھی لیکن اس سال اب تک پولیو کے 132 کیس سامنے آچکے ہیں۔

سرکاری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت کا عزم جتنا بھی مضبوط ہو والدین، سماجی کارکنوں، مذہبی رہنماؤں، اساتذہ اور رضا کاروں کی بھرپور شمولیت کے بغیر پولیو وائرس کے خلاف کوششیں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔

XS
SM
MD
LG