رسائی کے لنکس

ہاکی کی جیت پر ملک بھر میں جشن


پاکستانی ہاکی ٹیم کی ایشین گیمز میں فتح کا جشن لاہور کی سڑکوں پر۔ 25 نومبر، 2010

پاکستانی ہاکی ٹیم کی ایشین گیمز میں فتح کا جشن لاہور کی سڑکوں پر۔ 25 نومبر، 2010

پاکستان نے آخرکار بیس سال بعد ہاکی کا فائنل جیت ہی لیا۔ اس جیت کے ساتھ ہی پاکستان میں جو جشن کا سماں رہا اس نے قو م کے مرجھائے ہوئے چہرے کھلادیئے۔ اور میچ کی جیت کا جشن اس وقت دوبالا ہوگیا جب کھیلوں کے وفاقی وزیر اعجاز جاکھرانی نے قومی ٹیم کیلیے پچاس لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا۔

آج صبح سے ہی ہر ٹی وی چینل اور خاص کرعوامی حلقوں میں گرین شرٹس اور ملائیشیا کے درمیان ایشین کپ کا فائنل زیر بحث رہا۔پھر جب میچ شروع ہوا توملک کے دیگر شہروں کی طرح کراچی میں بھی لوگ ٹی وی اسکرین کے سامنے بیٹھ گئے اورشہر کی تمام بڑی شاہراؤں پر معمول سے کم ٹریفک دکھائی دیا ۔اس دوران تمام بڑی مارکیٹوں میں بھی خریداروں کی تعداد کم رہی جبکہ دفاتر میں بھی لوگوں نے میچ کی خبروں پر گہری نظر رکھی۔

میچ کے اختتام پر قومی ٹیم کی کامیابی کا وسل بجتے ہی پوری قوم میں خوشی کی انوکھی لہر دوڑگئی۔ بزرگ ، بچے اور نوجوان گھروں سے باہر نکل آئے اور سڑکیں و گلی کوچے پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھے۔ لاہور ، کراچی ، پشاور ، کوئٹہ اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا گیا اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں ۔

لوگ ایک دوسرے کو گلے لگا کر مبارک دیتے رہے۔موبائل فون پر مبارک باد کے ایس ایم ایس کا سلسلہ بھی زوروں پر رہا ۔ نہ صرف پاکستان بلکہ امریکا ، برطانیہ اور یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں نے بھی ٹیم کی کامیابی کا جشن منایا اور مٹھائیاں تقسیم کیں ۔کراچی اور دیگر شہروں میں آبادسیلاب متاثرین نے بھی اس خوشی کو بھر پور طریقے سے منایا ۔

ملک میں سیاسی ، اقتصادی ، امن وامان کی صورتحال ، توانائی کے بحران ، قدرتی آفات اور دیگر مسائل کے باعث افسردہ قوم ہاکی ٹیم کی شاندار فتح پر نسلی ، علاقائی ، گروہی ، لسانی اور مذہبی تفریق سے بالاتر ہو کر جشن میں شریک رہی۔

خوشی کے یہ لمحات ایسے وقت میں نصیب ہوئے ہیں جب قومی ہاکی ٹیم پر حالیہ سال عالمی کپ میں آخری اور کامن ویلتھ گیمز میں چھٹے نمبر پر آنے کے باعث شدید تنقید کی جارہی تھی ۔ 1994 سے قومی ٹیم کوئی بھی بڑا ایونٹ جیتنے میں ناکام رہی تھی جبکہ گزشتہ بیس سالوں سے وہ ایشین گیمز میں بھی کوئی واضح پوزیشن حاصل نہیں کرسکی تھی ۔

ایشین گیمز کے آغاز سے ہی قومی ٹیم نے اپنی بالادستی قائم کر لی تھی۔ 1958 اور1962 میں پاکستان نے بھارت کو شکست دے کر گولڈ میڈلز حاصل کیے تاہم 1966 میں بھارت نے کامیابی حاصل کی ۔ اس کے بعد 1970،74، 78 اور82 میں مسلسل چار بار بھارت کو مات دے کر یہ

ٹائٹل اپنے سینے پر سجایا۔1986 میں کوریا سے فائنل میں شکست کھائی لیکن 1990 میں فتح کا حقدار پھر پاکستان ہی ٹھہرا تاہم اس کے بعد پاکستانی ٹیم سے جیسے فتح روٹھ ہی گئی اوروہ ایشین کپ اس کی دسترس سے ایسا باہر ہوا کہ بیس سال کی مسافت کے بعد اسے آج جیت نصیب ہوئی ہے ۔

اس فتح کو پاکستان ہاکی کے لئے انتہائی اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے ۔ اس جیت کے ساتھ ہی پاکستان نے دو ہزار بارہ کے اولمپکس گیمز کیلئے بھی کوالیفائی کر لیا ہے ۔ماہرین کے مطابق ایسے وقت میں فتح پاکستان کی خوش قسمتی ہے ، اولمپکس اور ورلڈ کپ دو ہزار چودہ کی تیاری کے لئے کافی وقت مل گیا ہے ،فیڈریشن کو چاہیے کہ وہ تمام خامیاں دور کر کے ایک ایسی ٹیم سامنے لائے جو ہمیشہ پاکستانی قوم کو جشن کے مواقع فراہم کرتی رہے نہ کہ فتح کیلئے بیس ، بیس سال تک انتظار کرنا پڑے ۔

XS
SM
MD
LG