رسائی کے لنکس

موبائل فون کمپنیاں مشکل میں آسکتی ہیں:وزیر داخلہ


وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار

وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے متنبہ کیا کہ اگر موبائل فون کمپنیوں نے اس ضمن میں موثر اقدامات نہ کیے تو ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے موبائل فون کمپنیوں کو تنبیہہ کی ہے کہ اگر انہوں نے غیر اندارج شدہ سمز کے خلاف’’موثر اقدامات‘‘ نا کیے تو ان کے خلاف ’’سخت‘‘ کارروائی کی جا سکتی ہے۔

سابقہ حکومت کے دور میں موبائل فون کمپنیوں نے غیر اندراج شدہ سمز کے اندراج کی مہم کا آغاز کیا مگر موجودہ حکومت کے وزیر چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ یہ عمل صیحح طور پر نا کیا گیا اور اب بھی لاکھوں ایسی سمز موجود ہیں جنھیں غیرقانونی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ موبائل فون کمپنیوں سے جلد رجوع کرکے ہر صورت میں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ یہ کمپنیاں نا صرف غیر اندراج شدہ سمز کا اندراج کریں بلکہ آئندہ کے لیے ایسی سمز کے اجراء بھی روکیں۔

’’یہ انتا گھناؤنا سلسلہ ہے (کہ) جب تک یہ (کمپنیاں) حکومت کی لائن کو فالو نہیں کریں گی ان کے لیے بہت مشکلات پیدا ہوں گی میں آپ کو یقین دلاتا ہوں۔ یہ اتنا مشکل کام نہیں جتنا انہوں نے بنا لیا ہے۔ اس سال کے آخر تک میں اس سلسلے میں ایک نظام ضرور متعارف کرواؤں گا۔ اس میں اگر تھوڑی سختی بھی کرنی پڑی تو کریں گے۔‘‘

پاکستان میں شدت پسند اور جرائیم پیشہ عناصر اپنی کارروائیوں میں جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لاتے ہوئے نت نئے طریقے اختیار کرتے آرہے ہیں اور سکیورٹی عہدیداروں کے مطابق موبائل فونز ان کا ایک اہم ہتھیار بن چکا ہے۔

وزیر داخلہ کی طرف سے موبائل فونز کی کمپنیوں کے لیے یہ تنبیہہ ایک ایسے وقت سامنے آئی جب ملک کی کمزور معیشت کی بحالی کے لیے حکومت پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ بعض اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے نواز شریف حکومت کی طرف سے موبائل مونز سے متعلق تھری جی ٹیکنالوجی کے لائسنس کی مجوزہ نیلامی متاثر ہوسکتی ہے۔ تاہم چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ معاشی فوائد سے قطح نظر وہ سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایسے اقدامات ضرور کریں گے۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق افغانستان میں کام کرنے والی موبائل کمپنیوں کی سمز پاکستان میں بھتہ اور اغواء برائے تاوان جیسے جرائم میں استعمال ہورہی ہیں اور پشاور ہائی کورٹ کی طرف سے متعقلہ اداروں کو ان پر پابندی کے احکامات بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔

علاوہ ازیں حال ہی صدر مملکت نے ایک آرڈیننس جاری کیا جس کے تحت خفیہ اداروں کو ایک ضابطہ کار کے تحت ای میلز، موبائل فون پیغامات وغیرہ کی نگرانی کرنے کے نا صرف اختیار دیے گئے بلکہ وہ اب عدالتوں میں بطور شواہد بھی تسلیم کیے جائیں گے۔

ادھر سرکاری محکموں اور اداروں میں بدعنوانی کے تدارک کے لیے وزیر داخلہ کے بقول وفاقی تحقیقاتی ادارے میں ایک علیحدہ سیل قائم کردیا گیا ہے اور ابتدائی طور پر اسے پانچ بڑے مقدمات کی تحقیقات سونپی گئی ہیں جن میں سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے الزامات بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تحقیقات چھ ہفتوں میں مکمل کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر پر وطن سے باہر جانے پر پابندی ہے۔

’’اس میں کوئی سیاست نہیں ہوگی۔ اس میں بدعنوان شخص کو بدعنوان سمجھا جائے گا خواہ اس کا کسی پارٹی سے تعلق ہو۔ انسداد بدعنوانی اور دوسرے ادارے ہیں وہ اپنا کام کرتے رہے گے۔ میں ایف آئی اے کو متحرک ادارہ بنانا چاہتا ہوں۔‘‘

حال ہی میں صدر مملکت ممنون حسین نے بھی وزیراعظم کی ہدایت پر انسداد بدعنوانی کے سب سے بڑے ادارے قومی احتساب بیورو کے سربراہ کی تقرری کی منظوری دی ہے۔
XS
SM
MD
LG