رسائی کے لنکس

بھارتی وزیراعظم کی دعوت خوش آئند اقدام


پاک بھارت وزرائے اعظم (فائل فوٹو)

پاک بھارت وزرائے اعظم (فائل فوٹو)

اراکین پارلیمنٹ اور مبصرین پاکستان اور بھارت کے دوطرفہ تعلقات بالخصو ص نومبر 2008ء کے ممبئی حملوں کے بعد پید ا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کی طرف سے پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور صدر آصف علی زردار ی کو عالمی کرکٹ کپ کا سیمی فائنل میچ دیکھنے کی دعوت کو ایک مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں۔

تجزیہ کارحسن عسکری کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان” کرکٹ ڈپلومیسی “کی روایت پرانی ہے اور ماضی میں بھی کشیدگی کے دوران دو فوجی حکمران ضیاالحق اورپرویز مشرف بھی کرکٹ میچ دیکھنے کے لیے بھارت جا چکے ہیں ۔ اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ کی طرف سے اس دعوت نامے کا مثبت جواب دیا جانا چاہیئے۔

بھارتی وزیراعظم کی طرف سے جمعہ کی شام کوملنے والی دعوت کے بعد ابھی تک پاکستان نے کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا ہے کیوں کہ وزیراعظم گیلانی ملک سے باہر تھے اور وہ ازبکستان کے دورے سے ہفتے کو ہی وطن واپس پہنچے ہیں۔ حسن عسکری کا کہنا کہ پاکستانی وزیراعظم اگر اپنے بھارتی ہم منصب کی دعوت پر موہالی میں کرکٹ میچ دیکھنے گئے تو اس سے دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی ۔

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینٹ کی خارجہ اُمور کمیٹی کے چیئرمین سلیم سیف اللہ خان نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں کہا کہ وزیراعظم گیلانی کو اپنے بھارتی ہم منصب کی دعوت پر میچ دیکھنے ضرور جانا چاہیے۔ ”مجھ سے اگر پوچھا گیا تو میں تو وزیراعظم کو مشورہ دوں گا کہ وہ ضرور جائیں، یقینا آپس میں بیٹھنے ملنے سے تعلقات بہتر ہوتے ہیں “۔

جنوبی ایشیا کے دو اہم پڑوسی ممالک پاکستان او ربھارت کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان سیمی فائنل میچ 30مارچ کو موہالی میں ہوگااور اب تک دونو ں ممالک کی ٹیموں اور عوام کی طرف سے سامنے آنے والی رائے سے ظاہرہوتا ہے کہ اس میچ کا بے چینی سے انتظار کیا جارہا ہے۔

بھارت نے نومبر 2008ء میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد جامع امن مذاکرات کا عمل یک طرفہ طور پر منقطع کر دیا تھااور رواں سال فروری میں دونوں ملکوں نے اس سلسلے کو دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ اس تناظر میں پہلے باضابطہ رابطے میں بھارت اور پاکستان کی داخلہ وزارتوں کے وفود 28 مارچ کو نئی دہلی میں ملاقات کریں گے جس میں دہشت گردی کے خلاف کوششوں اورانسداد منشیات کے لیے اقدامات زیر بحث آئیں گئے۔

دونوں ممالک کے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے پاکستان اور بھارت کے امن وفود ایک دوسرے کے ممالک کا دورہ کر چکے ہیں اور رواں ہفتے سینیئر صحافی کلدیپ نائیر کی قیادت میں ایک بھارتی امن وفد نے پاکستان میں سیاسی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے علاوہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے بھی ملاقات کی تھی۔

اس ملاقات کے بعد وزیراعظم گیلانی نے ایک تحریر ی بیان کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حل طلب مسائل میں پیش رفت صرف مذاکرات ہی سے ممکن ہے کیونکہ جنگیں مسائل کا حل نہیں۔

XS
SM
MD
LG