رسائی کے لنکس

مذاکرات کے لیے مسئلہ کشیمر کی ایجنڈے میں شمولیت ضروری: سرتاج عزیز


سرتاج عزیز نے پیر کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ’اوفا‘ میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان ہونے والی ملاقات باضابطہ مذاکرات نہیں تھے بلکہ ایک ابتدائی رابطہ تھا۔

پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت سے باضابظہ مذاکرات مسئلہ کشمیر کو ایجنڈے میں شامل کیے بغیر شروع نہیں کیے جائیں گے۔

روس کے شہر ’اوفا‘ وزیراعظم نواز شریف اور اُن کے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کے درمیان ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں مسئلہ کشمیر کا ذکر تو نہیں تھا، البتہ اُس میں کہا گیا کہ قیام امن کو یقینی بنانا دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے اور اس کے لیے دونوں ملک تمام حل طلب معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے اُمور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے پیر کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ’اوفا‘ میں ہونے والی ملاقات باضابطہ مذاکرات نہیں تھے بلکہ ایک ابتدائی رابطہ تھا۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ مشترکہ اعلامیہ میں یہ واضح طور پر کہا گیا کہ دونوں فریقوں نے تمام حل طلب مسائل پر بات چیت کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ ’’میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ (مسئلہ) کشمیر کو ایجنڈے میں شامل کیے بغیر مذاکرات نہیں ہو سکتے، یہ ہمارا واضح موقف ہے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے کہا کہ ملاقات میں ’معذرت خواہانہ‘ رویہ نہیں اپنایا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مشیر برائے قومی سلامتی کے درمیان ملاقات پر اتفاق کا مقصد ہی یہ ہے کہ ’’کشیدگی کم ہو اور غلط فہمیاں پیدا نا ہوں۔‘‘

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات کی اہم بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں نے تناؤ میں کمی اور اہم اُمور پر بامعنی بات چیت کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

10 جولائی کو ہونے والی ملاقات میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے جنوبی ایشیا سے دہشت گردی کی ’لعنت‘ کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مشیر برائے قومی سلامتی نئی دہلی میں ملاقات کر کے دہشت گردی سے جڑے تمام اُمور پر بات چیت کریں گے۔

وزیراعظم نواز شریف اور اُن کے بھارتی ہم منصب کے درمیان تقریباً 50 منٹ تک جاری رہنے والی بات چیت میں سرتاج عزیز بھی موجود تھے۔

دونوں جانب سے کہا گیا کہ اس ملاقات سے فوری طور پر کسی بڑی پیش رفت کی توقع تو نہیں کی جانی چاہیئے البتہ مبصرین کا ماننا ہے کہ اعلیٰ سطحی رابطے تناؤ میں کمی کی جانب مثبت قدم ثابت ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG