رسائی کے لنکس

صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ’ناکامی‘ پر حکومت ہدف تنقید

  • شمیم شاہد

صحافی سراپا احتجاج (فائل فوٹو)

صحافی سراپا احتجاج (فائل فوٹو)

پشاور اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے ایک مقامی رپورٹر کی بم دھماکے میں ہلاکت کے خلاف بدھ کو احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ”ناکامی“ پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

مقررین نے بم حملے کی پرزور الفاظ میں مذمت کی اور اس واقعہ کو حکومت کی نااہلی قرار دیا۔ صوبہ خیبر پختون خواہ اور قبائلی علاقوں کی صحافی تنظیموں نے حکومت سے صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے مطالبے کو بھی دہرایا۔

پینتالیس سالہ نصرالله آفریدی منگل کی رات پشاور میں مشرق اخبار کے دفتر سے اپنے گھر واپس جا رہے تھے جب خیبر سپر بازار کے قریب اُن کی گاڑی میں ایک زوردار دھماکا ہوا۔ پولیس کے مطابق شدت پسندوں نے گاڑی میں ریموٹ کنٹرول بم نصب کر رکھا تھا۔

اس سے قبل نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد نصر الله آفریدی کی تدقین اُن کے آبائی علاقے باڑہ میں کی گئی۔

صحافیوں کی تنظیموں نے نصر الله آفریدی کی ہلاکت کے خلاف تین روز ہ سوگ کا اعلان بھی کیا ہے اور اس سلسلے میں جمعرات کو پشاور میں ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا جائے گا۔

صحافی برادری کا کہنا ہے کہ نصراللہ آفریدی ایک پیشہ ور اور انتہائی متحرک صحافی تھے اور اُنھیں شدت پسندوں کی طرف سے پہلے بھی دھمکیاں دی جارہی تھیں۔ اُن پر اس سے پہلے بھی قاتلانہ حملہ ہوچکا تھا تاہم وہ اس میں محفوظ رہے ، جب کہ چند ماہ قبل اُن کی رہائش گاہ پر بھی دستی بموں سے حملہ بھی کیا گیا تھا۔

صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم بین الاقوامی تنظیم ’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ کے مطابق سال 2002ء سے اب تک پاکستان میں دو غیر ملکیوں سمیت کم از کم 40 صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔

تنظیم کے نمائندے اقبال خٹک نے بدھ کو وائس آف ا مریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ نصف سے زائد ہلاکتیں پاکستان کے شورش زدہ شمال مغربی علاقوں میں ہوئیں جب کہ 10 صحافیوں کا تعلق قبائلی علاقوں سے تھا۔

اقبال خٹک کا کہنا تھا کہ حکومت ناصرف صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ ان واقعات میں ملوث عناصر کو بھی قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکا ہے۔

صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک اور عالمی تنظیم ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے)‘نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان صحافیوں کے لیے خطرناک ملک بن چکا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کے ایک وفد نے گذشتہ ہفتے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات میں مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں ۔بیان کے مطابق صدر آصف علی زرادری نے اُنھیں یقین دلایا تھا کہ صحافیوں کو درپیش خطرات کا خاتمہ اُن کی جماعت کے منشور کا حصہ ہے۔

XS
SM
MD
LG