رسائی کے لنکس

پاکستانی کشمیر میں بارشوں سے شدید نقصان

  • روشن مغل

مظفر آباد میں بارشوں سے متاثر ہونے والے افراد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ ان کے مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور اس وقت وہ بے سروسامانی کے عالم میں وقت گزار رہے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کمشیر کے بیشتر علاقوں میں شدید بارشوں اور دریاؤں میں طغیانی کے باعث کے جہاں جانی نقصان ہوا ہے وہیں بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

حکام کے مطابق کشمیر کے دس اضلاع بارشوں کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جب کہ دریائے نیلم جہلم اور پونچھ میں سیلاب کی صورتحال ہے۔

گزشتہ دو روز سے ہونے والی بارشوں سے ہفتہ کی شام تک 48 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے تھے۔

مظفر آباد میں بارشوں سے متاثر ہونے والے افراد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ ان کے مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور اس وقت وہ بے سروسامانی کے عالم میں وقت گزار رہے ہیں۔

آفات سے نمٹنے کے سرکاری ادارے کے ایک عہدیدار اکرم سہیل کا کہنا تھا کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور متاثرین کی دیکھ بھال کے لیے بھی کوششیں کی جارہی ہیں۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ بارشوں اور مٹی کے تودے گرنے سے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا جس سے امدادی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

"بہت سی سڑکیں اور پل بھی متاثر ہوئے ہیں بہہ گئے ہیں جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں بھی مشکل پیش آرہی ہے پھر بہت سے علاقوں میں بجلی بھی معطل ہے مواصلات کا نظام متاثر ہوا ہے۔۔۔جن علاقوں میں لوگ پھنسے ہوئے تھے انھیں ہم نے نکالا ہے اور جو ضلع حویلی میں لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے لوگ پھنسے ہیں انھیں بھی علاقے سے نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ دریائے نیلم، جہلم اور پونچھ میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا ہے لیکن دریاؤں کے قریبی علاقوں سے پہلے ہی لوگوں کو متبادل مقامات پر منتقل کیے جانے سے جانی نقصان سے خاطر خواہ حد تک بچنے میں مدد ملی۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہر سال مون سون کے موسم میں ہونے والی موسلادھار بارشوں اور دریاؤں میں طغیانی کے باعث جانی و مالی نقصانات ہو تے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ لوگوں کو نشیبی علاقوں اور آبی گزرگاہوں سے دور رہنے کے انتباہ کے باوجود بھی لوگ ایسا نہیں کرتے جس سے جانی نقصان کا خدشہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG