رسائی کے لنکس

کشمیر کی صدیوں پرانی ریشم سازی کی صعنت زوال کا شکار

  • روشن مغل

2005ء کے شدید زلزلے میں تباہ ہونے والے پیداواری ڈھانچے کی عدم بحالی کی وجہ سے اب یہ مقامی طلب بھی پوری کر نے سے قاصر ہے۔

کشمیر کی صدیوں پرانی گھریلو صنعت ابریشم سازی حکومتی عدم توجہی کے باعث تنزلی کا شکارہے۔ کم وقت اورکم محنت سے زیادہ نفع دینے والی یہ صنعت دیہی علاقوں میں غریب گھرانوں کے لئے آمدن کا اہم ذریعہ رہی ہے۔ شہتوت کے پتوں سے پلنے والے ریشم کے کیڑے 30 سے 35 دن میں میں ریشم پیدا کر دیتے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ ابریشم سازی کے مطابق 2005ء کے زلزلے میں تباہ ہونے والی عمارتوں کی عدم تعمیر کے باعث ریشم کی پیداوار میں دوتہائی کم ہوچکی ہے۔

محکمہ ابریشم سازی کے عہدیدار محمد رضوان اللہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ محکمہ ابریشم ماضی میں پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخواء کے علاوہ اور افغانستان کو ریشم پیدا کرنے والے کیٹرے مہیا کرتا تھا۔ لیکن 2005ء کے شدید زلزلے میں تباہ ہونے والے پیداواری ڈھانچے کی عدم بحالی کی وجہ سے اب یہ مقامی طلب بھی پوری کر نے سے قاصر ہے۔ زلزلے میں تباہ ہونے ابریشم سازی کے مراکز فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے ابھی تک بحال نہیں کیے جاسکے۔

رضوان اللہ

رضوان اللہ

’’زلزے سے قبل ہم ِکرم (کیڑا) کے سالانہ چھ ہزار پیکٹ پیدا کرتے تھے عمارتیں نہ ہونے کی وجہ سے اب صرف 17 سو پیکٹ پیداکئے جاتے ہیں جبکہ طلب 20 ہزار پیکٹ سے زائد ہے۔‘‘
رضوان اللہ نے بتایا کہ معتدل آب وہوا اور شہتوت کے درخت کی بہتات کی وجہ سے کشمیر کا علاقہ ریشم سازی کی صعنت کے لئے موزوں ترین ہے ۔ اسی وجہ سے یہ صعنت کئی صدیوں سے کشمیر میں پھلتی پھولتی رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے اور عالمی ادارہ خوراک و زراعت کے تعاون سے 1988ء میں مظفرآباد کے نواحی علاقے پہٹکہ میں ریشم سازی کی صعنت کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا تحقیقی مرکزبرائے افزائش و ترقی بیج کی زلزے میں متاثر عمارت کی ابھی تک تعمیر نو نہیں ہو سکی جس کی وجہ سے علاقے میں ریشم سازی کے لئے کرم کشی کا عمل تعطل کا شکارہے۔

پاکستانی کشمیر کے زلزلے سے بحالی وتعمیر نو کے ادارے سیراء کے ضلعی تعمیرنوکے پروگرام مینجر چوہدری الطاف نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ فنڈز کیکمی کی وجہ سے جاریہ تعمیر نو منصوبے التواء کا شکار ہیں اور نئے منصوبوں کی تعمیر فی الحال نا ممکن ہے۔

پاکستانی کشمیر میں ریشم سازی کے دو درجن سے زائد مراکز قائم ہیں جہاں ریشم پیدا کرنے والے کیڑوں کی خوراک شہتوت کے پودوں کی نرسریاں قائم ہیں۔
XS
SM
MD
LG