رسائی کے لنکس

ملالہ پر حملے میں مبینہ طور پر ملوث آٹھ افراد رہا

  • شمیم شاہد

ملالہ یوسفزئی

ملالہ یوسفزئی

ملالہ یوسفزئی کو طالبان شدت پسندوں نے اکتوبر 2012ء میں اس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا تھا جب وہ سوات میں اپنے اسکول سے گھر واپس جا رہی تھیں۔

لڑکیوں کی حق حصول تعلیم کے لیے آواز بلند کرنے والی ملالہ یوسفزئی پر حملے کے الزام میں آٹھ افراد کو عدم ثبوت کی بنا پر رہا کر دیا گیا ہے۔

اپریل میں سوات میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت کی طرف سے ملالہ پر حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں دس افراد کو 25، 25 سال قید کی سزا سنائی تھی لیکن جمعہ کو پولیس حکام نے بتایا کہ ان میں سے صرف دو افراد کو ہی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

سوات پولیس کے سربراہ سلیم مروت نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا۔

"انھیں عدم ثبوت کی بنا پر رہا کیا گیا اور دو کو سزا ہوئی یہ عدالت کا فیصلہ تھا۔"

حکام نے اپریل میں سزا سے متعلق میڈیا میں آنے والی خبروں کی اس وقت تردید یا تصدیق نہیں کی تھی۔

اس سے پہلے خیال تھا کہ سزا پانے والے دونوں افراد فرار ہو کر افغانستان چلے گئے تھے۔ ان افراد پر مقدمے کی سماعت انسادِ دہشت گردی کی عدالت نے فوج کی نگرانی میں کی جس کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش نہیں کی گئیں۔

ملالہ یوسفزئی کو طالبان شدت پسندوں نے اکتوبر 2012ء میں اس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا تھا جب وہ سوات میں اپنے اسکول سے گھر واپس جا رہی تھیں۔

ملالہ اس حملے میں شدید زخمی ہو گئی تھیں جنہیں پاکستان میں ابتدائی علاج کے بعد برطانیہ منتقل کر دیا گیا تھا جہاں وہ صحتیابی کے بعد اب اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

گزشتہ سال ہی انھیں امن کے نوبیل انعام سے نواز گیا اور وہ یہ انعام حاصل کرنے والی دنیا کی کم عمر ترین شخصیت ہیں۔

ملالہ پر حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی اور شدت پسندوں نے یہ کارروائی ملا فضل اللہ کے حکم پر کی تھی جو اب اس شدت پسند تنظیم کے سربراہ ہیں۔

XS
SM
MD
LG