رسائی کے لنکس

طالبان قیدیوں کا شدت پسندی سے جدید تعلیم اور ہنرمندی تک کا سفر


سوات میں پاکستانی فوج کے زیر نگرانی چلنے والا سینٹر صباؤن

سوات میں پاکستانی فوج کے زیر نگرانی چلنے والا سینٹر صباؤن

پاکستان کے شورش زدہ شمال مشرقی علاقے میں فوج شدت پسند گروپوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔ یہ گروپ فوجی کارروائیوں کے دوران سامنے نہیں آتے لیکن بعد میں مقامی آبادی کو خوفزدہ کرنے کے لیے لوٹ آتے ہیں۔ حکام ایک طرف اس آنکھ مچولی میں مصروف ہیں، تو دوسری طرف وہ شمال مغربی وادیِ سوات میں ، شورش کے خاتمے کے لیے نئے طریقے بھی آزما رہے ہیں۔ فوج کے مطابق، ایک زمانہ تھا جب طالبان کو بیشتر رنگروٹ وادیِ سوات سے ہی ملتے تھے۔

سوات کی حسین وادی میں پاکستانی فوج بہت سے تربیتی مراکز چلاتی ہے جہاں تربیت کار سابق طالبان جنگجوؤں کو انتہا پسندانہ خیالات سے نجات دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان افراد کو جو سبق پڑھائے جاتے ہیں، ان میں بتایا جاتا ہے کہ لوگوں کی جان لینا اور ریاستی اداروں پر حملے کرنا اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔

ان میں سے ایک اصلاحی مرکز کا نام مشعل ہے، جس کی دو شاخیں پیتھام اور بری کوٹ کے مقام پر سخت حفاظتی انتظامات کی موجودگی میں کام کر رہی ہیں۔

ان اداروں میں اٹھارہ سال سے زائد عمر کے کئی سو زیر حراست طالبان جنگجوؤں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر مثلاً الیکٹریشین، پلمبرز اور کمپیوٹر آپریٹرز بننے کی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔

کیمپ انچارج لیفٹیننٹن کرنل ضیا کہتے ہیں کہ جب یہ قیدی نئے ہنر سیکھ جائیں گے تو نا صرف ان میں انتہا پسندانہ رجحانات میں کمی آئے گی بلکہ وہ بہتر روزگار بھی حاصل کر سکیں گے۔ ”ہمارا مقصد یہ ہے کہ جدید اور مہذب دنیا کے بارے میں ان کا رویہ تبدیل کیا جائے جو صحیح معنوں میں مذہبی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔“

طالبان قیدیوں کا شدت پسندی سے جدید تعلیم اور ہنرمندی تک کا سفر

طالبان قیدیوں کا شدت پسندی سے جدید تعلیم اور ہنرمندی تک کا سفر

دو برس پہلے تک، وادیِ سوات اور اس کے ارد گرد اضلاع پر طالبان کا مکمل کنٹرول تھا جہاں اُنھوں نے اپنے عقائد کے مطابق کٹر اسلامی قانون نافذ کر رکھا تھا اور اختلاف کی جرات کرنے والوں کو سرعام پھانسی پر لٹکا دیا جاتا تھا۔

پاکستانی فوج نے ان علاقوں سے عسکریت پسندوں کو نکالنے کے لیے اپریل 2009ء میں ایک بڑا آپریشن شروع کیا اور سال کے آخر تک خطے میں ریاست کی عملداری بحال کر دی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں بشمول افسران کے 228 فوجی ہلاک جبکہ 757 زخمی ہوئے۔ مزید برآں آپریشن راہ راست کے دوران قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے 595 اہلکار ہلاک یا زخمی اور 981 عام شہری بھی مارے گئے۔

طالبان قیدیوں کا شدت پسندی سے جدید تعلیم اور ہنرمندی تک کا سفر

طالبان قیدیوں کا شدت پسندی سے جدید تعلیم اور ہنرمندی تک کا سفر

سوات کی وادی میں اب امن قائم ہو گیا ہے لیکن حکومت کو اس کے لیے بھاری جانی و مالی قیمت ادا کرنا پڑی ہے اور مقامی آبادی کو بھی بہت قربانیاں دینی پڑی ہیں۔ لیکن مقامی آبادی کی اکثریت بظاہر موجودہ صورت حال سے بہت خوش ہے کیوں کہ ان کا کہنا ہے کہ طالبان نے ان کی زندگی اجیرن کر دی تھی۔

اعلیٰ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کے بعد فوج کی زیر نگرانی وادیِ سوات اور مالاکنڈ میں قائم خصوصی مراکز کے ذریعے شدت پسندی کی حوصلہ شکنی کی ان کی کوششیں مفید ثابت ہو رہی ہیں۔

پاکستان میں اس سال خودکش حملوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے جس کی بظاہر ایک وجہ سوات میں ریاست کی عملداری کا قیام ہے کیونکہ اسلام آباد کی لال مسجد کے خلاف جولائی 2007ء میں فوجی آپریشن کے بعد ملک بھر میں ہونے والے خودکش بم دھماکوں میں سے اکثر کی کڑیاں حکام کے بقول سوات کے طالبان سے ملی تھیں۔

سوات میں خصوصی اصلاحی مراکز کے فوجی منتظمین کا کہنا ہے کہ ماہرین نفسیات اور جید علماء مختلف موضوعات پر طالبان قیدیوں کو روزانہ لیکچر دیتے ہیں جبکہ ان کی قرآنی تعلیمات پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ مشعل میں زیر تعلیم افراد کو اپنے خاندانوں سے ہفتے میں ایک مرتبہ ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی معاشرتی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ رہیں۔

طالبان قیدیوں کا شدت پسندی سے جدید تعلیم اور ہنرمندی تک کا سفر

طالبان قیدیوں کا شدت پسندی سے جدید تعلیم اور ہنرمندی تک کا سفر

ادارے میں زیر تربیت افراد کو مختلف ہنر سکھانے کا مقصد رہائی کے بعد اُنھیں ملازمتیں حاصل کرنے میں مدد دینا ہے اس لیے مشعل کی دونوں شاخیں گورنمٹ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل سینٹر سوات سے منسلک کیا گیا ہے۔

انتہا پسندی کے رجحانات کی حوصلہ شکنی کرنے کی اس مہم کے سلسلے میں زیر تربیت بعض افراد کے خاندانوں کو بھی ہفتے میں ایک مرتبہ معروف مذہبی اور دیگر دانشوروں کے خصوصی لیکچرسننے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔

مشعل میں فوجی افسران کا کہنا ہے کہ رواں سال ستمبر کے آخر تک ادارے کی دونوں شاخوں سے مستفید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 858 ہو جائے گی، جب کہ اب تک لگ بھگ پانچ سو سابق طالبان جنگجو اصلاح کے اس مرحلے سے گزرنے کے بعد دوبارہ معاشرے کا کارآمد حصہ بن چکے ہیں۔

لیکن واپس گھروں کو بھیجے جانے والے سابق جنگجوؤں پر قانون نافذ کرنے والے ادارے کڑی نظر رکھتے ہیں اور کسی بھی مشتبہ شخص کے خلاف اطلاع ملنے پر اس کی مفصل تحقیقات کی جاتی ہیں، تاہم حکام کے بقول اب تک ان افراد کے خلاف کوئی شکایت نہیں آئی ہے۔

وادی میں طالبان کے تربیت یافتہ کم عمر خودکش بمباروں کے لیے بھی’ صباؤن‘ (صُبح نو) کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا ہے جہاں اس وقت 160 سے زائد ایسے بچے زیر تعلیم ہیں جن کی عمریں 12 اور 17 سال کے درمیان ہیں۔ ان سب کو یا تو اپریل 2009ء میں فوجی آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا یا پھر والدین نے اپنے بچوں کے ارادوں کو بھانپتے ہوئے اُنھیں فوج کے حوالے کر دیا۔

وی او اے سے گفتگو کے دوران فوج نے عبدالناصر کا چہرہ نہ دکھانے کی درخواست کی

وی او اے سے گفتگو کے دوران فوج نے عبدالناصر کا چہرہ نہ دکھانے کی درخواست کی

زیر تربیت 15 سالہ عبدالناصر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ منشیات کا عادی ہو چکا تھا جب اس کی ماں نے اس اُمید پر اسے طالبان کے حوالے کر دیا کہ وہ اس کی اصلاح کر کے صحت مند زندگی میں واپس لے آئیں گے۔

’’طالبان سزا کے طور پر مجھے اذیتیں دیتے تھے، اور ایک روز انھوں نے کہا کہ اگر تم سزا سے بچنا چاہتے ہو تو خود کش بمبار بن جاؤ۔ میں نے یہ پیشکش قبول کر لی، لیکن اپنا مشن مکمل کرنے سے پہلے ہی مجھے فوج نے گرفتارکر لیا۔‘‘

صباؤن میں فوج کے ماہر نفسیات مودت رانا

صباؤن میں فوج کے ماہر نفسیات مودت رانا

صباؤن میں فوج کے ماہر نفسیات مودت رانا کا کہنا ہے کہ مرکز میں جو لڑکے ہیں ان میں سے بیشتر کا تعلق بہت غریب گھرانوں سے ہے جنھیں طالبان نے بد سلوکی کا نشانہ بنایا تھا۔

”یہ کم عمر لڑکے تھے جنھوں نے پڑھنا لکھنا چھوڑ دیا تھا، جن پر ایک عرصے تک جسمانی تشدد کیا گیا تھا اور ظلم ڈھائے گئے تھے۔ انھیں مزدوروں کی طرح استعمال کیا گیا تھا اور طالبان ان سے اپنے خدمت گاروں کا سا کام لیتے تھے۔“

اُنھوں نے کہا کہ ابتدا میں آئے روز ادارے میں ایسے بچوں کا اضافہ ہوتا رہا لیکن فوجی آپریشن ختم ہونے کے بعد یہ سلسلہ تقریباً رک چکا ہے۔

تربیت دینے والوں کو امید ہے کہ ان لڑکوں کو ایک بار پھر اپنے گھرانوں کے ساتھ ملانے سے، دوسرے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہو گی کہ وہ انتہا پسندی کی سرگرمیوں سے دور رہیں۔

ماہر نفسیات مودت رانا کہتے ہیں کہ اصلاحی مراکز موجود ہر شدت پسند کی کایا پلٹ دینا شاید ممکن نہیں۔ ’’لیکن ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ ان میں سے تقریباً ہر ایک نے زندگی کے بارے میں اپنا نظریہ بدل لیا ہے۔ اب ان کی آنکھوں میں اُمید کی روشنی نظر آتی ہے، اب وہ اپنی موجودہ زندگی کے بارے میں بات چیت کرتے ہیں، اور اسلام اور قرآنی احکامات کے بارے میں ان میں نئی سمجھ بوجھ پیدا ہوئی ہے۔“

امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر، ملیحہ لودھی

امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر، ملیحہ لودھی

فوجی عہدے داروں کا منصوبہ ہے کہ ملک کے دوسرے حصوں میں بھی جہاں شدت پسندی مسئلہ بنی ہوئی ہے، ایسے ہی مراکز قائم کیے جائیں۔ امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر، ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ یہ بات اہم ہے کہ مقامی بستیوں کا اعتماد حاصل کیا جائے۔

”میں سمجھتی ہوں کہ سوات میں انتہا پسندی کے اثرات ختم کرنے کا یہ پروگرام بہت اہم ہے۔ یہ ایک طرح سے پاکستان کا ٹیسٹ ہے کہ وہ غیر فوجی طریقے استعمال کر سکتا ہے اور ایسے حالات قائم کر سکتا ہے جن میں ان علاقوں میں انتہا پسندی واپس نہ آ سکے جہاں سے شدت پسندوں کا صفایا کر دیا گیا ہے۔“

لیکن شدت پسندی ختم کرنے کے ان منصوبوں سے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہزاروں مدرسوں کے اثرات پر قابو پانے میں مدد کے حوالے سے ناقدین تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔ ان مدارس میں بیشترغریب گھرانوں کے لاکھوں بچوں کو صرف مذہبی و قرآنی تعلیمات دی جاتی ہیں اور بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ان میں سے بعض مدرسے انتہا پسندانہ رجحانات کو فروغ دے رہے ہیں۔

لیکن ان مدارس کی منتظمین طویل عرصے سے کی جانے والی اُن سرکاری کوششوں کی مزاحمت کرتے آ رہے ہیں جن کا مقصد ان اداروں میں اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ جدید علوم متعارف کرانا ہے۔

امریکہ، اور پاکستان کے اندر بعض لوگوں کو اب بھی پکا یقین نہیں کہ فوج شدت پسند گروپوں کا زور توڑنے کے معاملے میں واقعی مخلص ہے۔ اس شبہے کی وجہ یہ ہے کہ اب بھی یہ خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں بھارت مخالف انتہا پسند گروپوں، اور امریکہ مخالف افغان گروپ، حقانی نیٹ ورک کی مدد کرتی ہیں۔

طالبان قیدیوں کا شدت پسندی سے جدید تعلیم اور ہنرمندی تک کا سفر

طالبان قیدیوں کا شدت پسندی سے جدید تعلیم اور ہنرمندی تک کا سفر

لیکن فوجی عہدے دار مشعل اور صباؤن کی طرف توجہ دلاتے ہیں جو لوگوں کو انتہا پسندی سے نجات دلانے کے لیے وقف ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی فوج شدت پسندی کے خلاف پْر عزم ہے۔

مشعل کی ایک کلاس میں موجود ریاض خان نامی سابق طالبان جنگجو نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ ایک سماجی کارکن تھا اور اپنے گاؤں میں انتہا پسندانہ رحجانات کی حوصلہ شکنی کرنے والے افراد میں پیش پیش تھا لیکن جب طالبان نے اُن کے علاقے پر قبضہ کیا تو جان بچانے کے لیے اُنھیں مجبوراََ عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہونا پڑا۔

”اب جو تبدیلیاں مجھ میں اور اس جماعت میں میرے دیگر ساتھیوں میں آئیں ہیں مجھے یقین ہے کہ یہ لوگ معاشرے کے بہترین افراد ثابت ہوں گے۔ میں تو یہ کہوں گا کہ عجیب سا ایمان بنا مشعل کے سائے میں، انسان سے انسان بنا مشعل کے سائے میں۔“

XS
SM
MD
LG