رسائی کے لنکس

عوام کی اکثریت کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے موبائل فون کی سروس معطل کرنے کی بجائے حکومت کو ٹھوس اقدامات کرنے چاہیئں۔

پاکستان میں شہداء کربلا کے چہلم کے موقع پر سکیورٹی خدشات کے پیش نظر تقریباً 46 اضلاع میں موبائل فون سروس صبح آٹھ بجے سے رات 10 بجے تک بند رہے گی۔

ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والوں کی طرف سے جلوس نکالے گئے جن کی نگرانی کے لیے سکیورٹی فورسز کے سینکڑوں اضافی جوانوں کی تعیناتی کے علاوہ سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔

دہشت گردی کے کسی ممکنہ خطرے کے پیش نظر حفظ ماتقدم کے طور پر ملک کے 47 اضلاع بشمول لاہور، کراچی، کوئٹہ، پشاور اور راولپنڈی میں موبائل فون کی سروس صبح آٹھ بجے بند کر دی گئی۔

پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی ’پی ٹی اے‘ کے ڈائریکٹر انفورسمنٹ سجاد لطیف اعوان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وفاقی وزارت داخلہ کی ہدایت پر موبائل فون سروس معطل کی گئی۔
’’95 فیصد شہروں میں تو صبح آٹھ بجے سے رات دس بجے تک سروس بند رکھی جائے گی چند ایک علاقوں میں گزشتہ رات 12 بجے ہی فون سروس بند کردی گئی تھی۔ کچھ شہروں میں چار چار گھنٹوں کے لیے بھی سروس معطل کی گئی۔‘‘

اس سے قبل نو اور دس محرم کو عاشورہ کے موقع پر بھی ملک کے لگ بھگ 50 شہروں میں دو دن کے لیے موبائل فون کی سہولت معطل کی گئی تھی۔ فون سروس کی بندش کا یہ سلسلہ گزشتہ سال اگست میں شروع کیا گیا تھا اور عیدین کے علاوہ مختلف مواقع پر یہ کارروائی دہرائی جاتی رہی ہے جس کے حکومتی عہدیداروں کے بقول خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ اور دیگر اعلیٰ عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ شدت پسند موبائل فونز کو دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

کئی شہروں میں سلامتی کے خدشات کے پیش نظر موٹر سائیکل پر ڈبل سواری اور بعض علاقوں میں موٹر سائیکل چلانے پر پابندی ہے۔

لیکن موبائل فون کی بندش سے عام صارفین کو مشکلات کا سامنا رہا کیوں کہ حالیہ برسوں کے دوران رابطوں میں موبائل فون کی سہولت کلیدی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ عوام کی اکثریت کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے موبائل فون کی سروس معطل کرنے کی بجائے حکومت کو ٹھوس اقدامات کرنے چاہیئں۔
XS
SM
MD
LG