رسائی کے لنکس

آصف زرداری پیشی سے مستثنیٰ


سابق صدر زرداری (فائل فوٹو)

سابق صدر زرداری (فائل فوٹو)

سابق صدر کے وکیل فاروق نائیک نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے موکل کے خلاف ایسے شواہد موجود نہیں جن سے وہ قصوروار ثابت ہوسکیں لہذا انھیں بری کیا جائے۔

پاکستان کی ایک احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری کو پیشی سے استثنیٰ دیتے ہوئے ان کے خلاف دائر بدعنوانی کے مقدمات کی سماعت تین فروری تک ملتوی کردی ہے۔

ہفتہ کو اسلام آباد میں احتساب عدالت میں سابق صدر کے خلاف قومی احتساب بیورو کی طرف سے دائر بدعنوانی کے پانچ ریفرنسز کی سماعت کے دوران آصف زرداری کے وکیل فاروق نائیک نے استدعا کی کہ ان کے موکل کے خلاف ایسے شواہد موجود نہیں جن سے وہ قصوروار ثابت ہوسکیں لہذا انھیں بری کیا جائے۔

آصف زرداری پر نوے کی دہائی میں قائم کیے جانے والے پانچ ریفرنسز (ایس جی ایس، اے آر وائی گولڈ، کوٹکنا، ٹریکٹروں کی ایک سرکاری اسکیم میں مبینہ بدعنوانی اور وزیراعظم ہاؤس میں سرکاری خرچ سے پولو گراؤنڈ کی تعمیر) کی دوبارہ سماعت گزشتہ سال ستمبر میں ان کی مدت صدارت اور انھیں حاصل صدارتی استثنیٰ کے خاتمے کے چند ہفتوں بعد شروع ہوئی تھی اور گزشتہ بدھ کو وہ عدالت کے سامنے پیش بھی ہوئے۔

عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ ’’گواہیاں آچکی ہیں کوئی بھی ایسی گواہی نہیں آئی جس پر کہا جا سکے کہ آصف صاحب نے کوئی غلط کام کیا ہے۔‘‘

فاروق نائیک کے ایک معاون وکیل امجد اقبال قریشی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ عدالت نے ان کے موقف کو سننے کے بعد نیب سے آئندہ پیشی پر جواب طلب کیا ہے۔

’’موقف یہ ہے کہ چونکہ اس میں مجرم ثابت ہونے کا کوئی بھی امکان نہیں ہے تو ان مقدمات کو مزید چلانا ایک فضول مشق ہوگی تو اس لیے انھیں (آصف زرداری کو) بری کیا جائے۔ تو اس پر نوٹس جاری ہوگیا نیب کو کہ وہ تین تاریخ کو جواب دیں‘‘

آصف علی زرداری کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی یہ کہتی آئی ہے کہ یہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے تھے۔

بعض قانونی ماہرین بھی یہ خیال ظاہر کر چکے ہیں کہ ان مقدمات میں آصف علی زرداری شریک ملزم تھے جب کہ ان میں بہت سے مرکزی ملزمان کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کیا جاچکا ہے لہذا سابق صدر کی بریت بھی بظاہر یقینی معلوم ہوتی ہے۔
XS
SM
MD
LG