رسائی کے لنکس

پٹرول کی نئی قیمت 7.77 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد 104.55 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

حکومت کی طرف سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آٹھ فیصد تک اضافے کے بعد عوام کی طرف سے غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے سے آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی میں اس تازہ اضافے سے ان کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔

یکم ستمبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پیٹرول 104.55 روپے، ہائی اسپیڈ ڈیزل112.13 لائٹ ڈیزل 98.84 اور مٹی کا تیل 102.21 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔

علاوہ ازیں گاڑیوں میں ایندھن کے طور پر استعمال ہونے والی سی این جی کی قیمتوں میں بھی سات روپے تک کا اضافہ کیا گیا ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتےہوئے ٹرانسپورٹرز اور دیگر عام افراد نے حالیہ اضافے پر سخت تنقید کی۔

پبلک ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ان کے لیے گاڑی چلانا بہت دشوار ہوتا جا رہا ہے۔

گلزیب راولپنڈی سے اسلام آباد کے درمیان وین چلاتے ہیں ان کا کہنا تھا’’جو موجودہ کرایہ ہے اس پر بھی لوگ ہم سے جھگڑتے ہیں، ہم کیا کرسکتے ہیں ہمیں تو اپنی دہاڑی کا ہوتا ہے کہ کچھ اتنا ہوجائے کہ گھر کا چولہا جلا سکیں۔‘‘

تنخواہ دار طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر نالاں دکھائی دیے۔

محمد خلیق ملازمت پیشہ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ان کی روزمرہ زندگی پر بہت زیادہ منفی فرق پڑتا ہے ان کے بقول حکومت ایک بار قیمتیں کم کرکے بعد میں اس میں دو تین بار مزید اضافہ کردیتی ہے۔

ایک سرکاری ملازم سلامت کا کہنا تھا’’ میری یومیہ آمدن تین سو روپے بنتی ہے ایک سو روپیہ کرائے میں چلا جاتا ہے ، دو سو روپے میں کیا گھر چلائیں۔ اگر عالمی منڈی کے مطابق یہ قیمتیں بڑھاتے ہیں تو لوگوں کی تنخواہیں بھی بڑھائیں۔‘‘

مزید برآں ملک کی مختلف تاجر تنظیموں کی طرف سے پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے بصورت دیگر ان تنظیموں نے ہڑتال کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
ادھر حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں نے بھی پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد کرتے ہوئے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

تاہم وزیراعظم کے مشیر برائے پیٹرولیم مصنوعات و قدرتی وسائل عاصم حسین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حالیہ اضافے کو بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں استعمال ہونے والی 85 فیصد پیٹرولیم مصنوعات درآمد کی جاتی ہیں اور بین الاقوامی منڈی میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے حساب سے ہی ملک میں ان کی قیمتوں میں رد و بدل کیا جاتا ہے۔

اُدھر وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے سرکاری ٹی وی پر اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ حکومت عام آدمی کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لا رہی ہے اور ان کے بقول مشکل اقتصادی صورت حال کے باوجود سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں قابل ذکر اضافہ بھی کیا گیا تاہم ان کا ماننا تھا کہ اس ضمن میں ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG