رسائی کے لنکس

دہشت گردی و انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم کا قومی مکالمے کا آغاز


وزیراعظم گیلانی کا شرکا کے ساتھ گروپ فوٹو

وزیراعظم گیلانی کا شرکا کے ساتھ گروپ فوٹو

” قوم سے مکالمہ“ کے عنوان سے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں سے صلاح و مشورے کا آغاز کرتے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اس عمل کا مقصد قومی اتفاق رائے سے ایک ایسی پالیسی تشکیل دینا ہے جس سے پاکستان کو درپیش انتہا پسندی ، دہشت گردی اور دیگر ایسے چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد ملے۔ اُن کے بقول دہشت گردی نے پاکستانی معاشرے کو بری طرح گھیر رکھا ہے جس نے ملکی معیشت کو بھی بُری طرح متاثر کیا ہے۔

پیر کو اسلام آباد میں قومی مکالمے کے پہلے مرحلے کے شرکا سے خطاب میں وزیراعظم گیلانی نے کہا ” محبت اور بھائی چارے کی فضا کم ہورہی ہے۔ باہمی رنجشیں دوریوں کا سبب بن رہی ہیں۔ قوت برداشت میں کمی واقع ہوگئی ہے ایک دوسرے کی رائے سننے کی گنجائش کم ہوتی جارہی ہے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی ہمارے امن اور سکون کو مسلسل برباد کررہی ہیں“۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کی صورت حال میں بہتری لانے کے لیے مشاورت کے اس سلسلے کے چار مرحلوں کے دوران وہ فنون لطیفہ کی شخصیات ، مصوروں، فنکاروں، مجسمہ سازوں، ماہرتعلیم ،سماجی بہبود کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور شعبہ صحافت کی نمایاں شخصیات سے بھی مشورہ لیں گے ۔

وزیر اعظم گیلانی نے کہا کہ مشاورت کے اس عمل کی روشنی میں کیے گئے فیصلوں کا وہ چودہ اگست کے موقع پراعلان کریں گے۔

قومی مکالمے کے پہلے مرحلے میں جن شخصیات کو مدعو کیا گیا ان میں معروف ادیب اصغر ندیم سید بھی شامل تھے۔ انھوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا” سب نے اپنے اپنے انداز میں وزیراعظم کو اپنی آرا پیش کیں جنہیں انھوں نے ریکارڈ کرلیا ہے۔ ہم نے وزیراعظم کو بتایا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ملک میں نصاب کو بدلنا چاہیے، تعلیمی نظام کو بدلنا چاہیے اور ایسے بہت سے اقدامات کرنا چاہیئں۔

اصغر ندیم سید

اصغر ندیم سید

وزیر اعظم گیلانی نے اس عمل کا آغاز ایک ایسے وقت کیا ہے جب ان کی حکومت بدعنوانی، خراب طرز حکمرانی جیسے الزامات کی زد میں ہے جب کہ اہم عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہ کرنے پر بھی انھیں شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ان حالات میں ناقدین ”قوم سے مکالمہ“ کی کوشش کے نتائج سے زیادہ پرامید نہیں ہیں۔

ان تحفظات کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے اصغر ندیم سید نے کہا ”قبل از وقت کچھ نہیں کہا جاسکتا ابھی تو وہ (وزیراعظم) باقی لوگوں سے بھی ملاقاتیں کریں گے اس کے بعد وہ کیا اعلان کرتے ہیں یہ تو حکومت کا کام ہے۔ ہمارا کام تھا کہ ہم مشورہ دیں ہم نے مشورے دیے اور بڑے صدق دل سے دیے جو انھوں نے قبول بھی کیے ۔“

XS
SM
MD
LG