رسائی کے لنکس

حزب اختلاف کے قانون سازوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’بدعنوان‘‘ افسران کے خلاف کارروائی قواعد و ضوابط اور قانون کے تحت ہونی چاہیئے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے پیر کو وفاقی سیکرٹریوں کو ایک خط کے ذریعے کہا ہے کہ سرکاری اداروں میں بدعنوان افسران اور ملازمین کی کوئی گنجائس نہیں اس لیے ان کی ملازمت سے متعلق معاہدات کو منسوخ کیا جائے۔

بدعنوانی کے خاتمے کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ عوام کو سہولت فراہم کرنے میں بدعنوانی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے وائس آف امریکہ کو فراہم کیے گئے خط کے مسودے میں نواز شریف کہتے ہیں ’’آپ تمام اپنے اپنے محکموں کے افسران اور ملازمین کو پیشہ ورانہ انداز میں اپنی ذمہ دایاں نبھانے کی ہدایت کریں۔ موجودہ صورت حال میں بدعنوانی اور غیر شفافیت کی کوئی گنجائش نہیں‘‘

انھوں نے کہا ان افسران کو ہٹا دیا جائے جو کہ ’’بدعنوان‘‘ ہیں یا جو ’’غیر فعال کارکردگی کی شہرت‘‘ رکھتے ہیں۔

حزب اختلاف کے قانون ساز اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بھی کارروائی قواعد و ضوابط اور قانون کے تحت ہونی چاہیئے۔

ملک میں بدعنوانی سے متعلق تحقیقات کرنے والے غیر سرکاری تنظیم ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے اعلیٰ عہدیدار عادل گیلانی نے وزیراعظم کے اس اقدام کو سراہا تاہم ان کا کہنا تھا۔

’’کسی افسر کی بد عنوانی کو ثابت کرنا ضروری ہے ورنہ سارے لوگ سپریم کورٹ چلے جائیں گے اور یہ قصہ چلتا رہے گا۔ یہ چیز اس سے پہلے بھی ہوئی اور سابق حکومت نے چھ ہزار لوگوں کو نوکریوں پر بحال کیا کیونکہ انھیں غیر قانونی طور پر نکالا گیا تھا اور حکومت کے خزانے پر اربوں روپے کا بوجھ پڑا، تو ایسا دوبارہ ہوا تو فائدے کی بجائے نقصان ہوگا۔‘‘

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے گزشتہ سال اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستان کے سرکاری محکموں میں روزانہ کی بنیاد پر تقریباً سات ارب روپے کی بدعنوانی ہوتی ہے۔ اس وقت کی پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت نے اس رپورٹ کو بے بنیاد اور ان اعداد و شمار کو مسترد کیا تھا۔

حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سینئیر رہنما اور قانون ساز شفقت محمود کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت کا مقصد صرف ’’نا پسندیدہ افسران‘‘ کے خلاف کارروائی نہیں ہونا چاہیئے۔

’’اگر یہ کارروائی شفاف اور مساوی بنیادوں پر ہوگی اور اس بارے میں کوئی معیار ہو اور تمام دنیا کو معلوم ہو کہ یہ کس بنیاد پر ہو رہی ہے تو ٹھیک ہے۔ مگر یہ کارروائی نا پسندیدہ افسران کے خلاف ہو گی تو یہ قابل قبول نا ہوگی۔‘‘

بد عنوانی کے خاتمے کے لیے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو سرکاری محکموں میں تقرریاں صرف میرٹ کی بنیاد پر کرنا ہونگی۔

وزیراعظم نواز شریف نے اپنے خط میں کہا ہے کہ عوام نے ان کی جماعت کو حالیہ انتخابات میں ووٹ اس بنیاد پر دیے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آنے کے بعد بدعنوانی کا خاتمہ کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ خط میں دی گئی ہدایات پر مکمل طور پر عمل درآمد کرتے ہوئے تمام سرکاری محکموں میں اچھی شہرت والے افسران کی تقرری کی جائے۔

نواز شریف اس سے پہلے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزراء کو پندرہ روز میں اپنے لیے اہداف کا تعین کی ہدایت کرتے ہوئے انھیں متبنہ کر چکے ہیں کہ ’’ناقص کارکردگی‘‘ دیکھانے پر اُنھیں وزارت سے ہٹایا جا سکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG