رسائی کے لنکس

وزیراعظم نواز شریف کا فوج کے سربراہ سے ٹیلی فون پر اہم رابطہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

حالیہ کشیدگی کے بعد ملک کے مختلف شہروں بشمول اسلام آباد میں بظاہر سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے اور اس کی وجہ دہشت گردی کا ممکنہ خطرہ بتایا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ کے دورے پر گئے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے نیویارک سے ٹیلی فون کے ذریعے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے رابطہ کیا اور علاقائی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے ’اوڑی‘ میں مبینہ دہشت گردوں کے حملے میں 18 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارت کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے کشیدگی کے تناظر میں وزیراعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کے درمیان یہ پہلا رابطہ تھا، کیوں کہ ’اوڑی‘ میں حملے سے قبل ہی پاکستانی وزیراعظم نیویارک کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔

تجزیہ کار لفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) امجد شعیب نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ کشمیر میں حملے کے بعد بھارت کے کچھ حلقوں کی طرف سے اُن کے بقول بعض جارحانہ بیانات سامنے آئے تھے اور ان حالات میں یہ رابطہ ضروری تھا۔

’’میں سمجھتا ہوں کہ اعلیٰ سطح تک کوآرڈینیشن ہو گئی۔۔۔ یہ خاص طور پر اس لیے ضروری تھا ہماری جو نیشنیل سکیورٹی کونسل ہے جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان بیٹھتے ہیں اور اُس کی صدارت وزیر اعظم کے پاس ہے۔۔۔ دفاعی معاملات میں وہی منظوری دیتے ہیں۔۔۔ تو میرا خیال ہے چیف آف آرمی اسٹاف نے ان سے زبانی منظوری لے لی ہے کہ اگر خطرات ہوئے ملک کو تو کیا کیا جائے گا۔‘‘

بھارت کی طرف سے یہ الزام لگایا گیا تھا کہ ’اوڑی‘ میں حملے کرنے والے عسکریت پسندوں کا تعلق پاکستان میں موجود کالعدم تنظیم ’جیش محمد‘ سے تھا اور اُنھیں پاکستان کی حمایت حاصل تھی۔

تاہم پاکستان کی طرف سے بھارتی الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں۔

لفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) امجد شعیب کہتے ہیں کہ فوج کے سربراہ نے وزیراعظم کو ایک مرتبہ پھر آگاہ کیا ہو گا کہ اُن کے ملک کا بھارتی کشمیر میں حالیہ حملے سے کوئی تعلق نہیں۔

’’اس بارے میں وزیراعظم کو بریف کرنا تھا تاکہ وہ اس معاملے پر اپنے ملک کا موقف ٹھوس انداز میں پیش کر سکیں کہ پاکستان اس میں قطعاً ملوث نہیٕں ہے۔‘‘

اُدھر حالیہ کشیدگی کے بعد ملک کے مختلف شہروں بشمول اسلام آباد میں بظاہر سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے اور اس کی وجہ دہشت گردی کا ممکنہ خطرہ بتایا جا رہا ہے۔

دریں اثنا پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بدھ کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی، جس کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق پاک افغان سرحد کی نگرانی بڑھانے کے لیے وسائل سے متعلق اُمور پر بات چیت کی گئی۔

گزشتہ ماہ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ’سول آرمڈ فورسز‘ کے 29 مزید ونگز تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اس کا مقصد سرحد کی نگرانی اور داخلی سلامتی کو بہتر بنانا ہے۔

XS
SM
MD
LG