رسائی کے لنکس

قومی اسمبلی میں یکم جون کو پیش کیے جانے والے وفاقی بجٹ پر تاحال مختلف وجوہات کی بنا پر تعمیری بحث نہیں ہو سکی ہے اور گزشتہ چار دنوں سے قومی اسمبلی کا اجلاس بھی وقت مقررہ پر شروع نا ہو سکا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت نے اپنے موجودہ دور اقتدار کا پانچواں بجٹ یکم جون کو جب پارلیمان میں پیش کیا تو حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کی جانب سے شدید احتجاج کیا تھا اور معاملہ حکومتی اراکین کے ساتھ ہاتھا پائی تک جا پہنچا جو مبصرین کے خیال میں ملک کی جمہوری تاریخ کا بد ترین دن تھا۔

حزب اختلاف کے احتجاج کا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور مسلم لیگ (ن) کے اراکین بجٹ سفارشات پر بحث میں حصہ نہیں لے رہے ہیں، لیکن دوسری طرف دو تہائی سے زائد اکثریت رکھنے والے حکمران اتحاد کے اراکین بھی بظاہر بجٹ اجلاس میں خاص دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔

اس صورت حال پر خود حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے اراکین بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی لیڈر فاروق ستار نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ جمہوریت کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے اراکین کی پارلیمان میں حاضری کو یقینی بنائیں۔

’’یہ بڑی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ ہے جو اکثر قومی اسمبلی کے اراکین بجٹ اجلاس کے دوران کررہے ہیں یہ نہ صرف غیر ذمہ داری ہے بلکہ ہم اپنے بنیادی فرائض میں بھی کوتاہی کر رہے ہیں اگر اجلاس میں باقاعدگی سے نہیں آئیں گے یا وقت پر اجلاس میں نہیں آتے اس سے قوم کا کروڑوں بلکہ اربوں روپیہ ضائع ہوتا ہے یہ بڑے افسوس کی بات ہے۔‘‘

عوامی نیشنل پارٹی ’’اے این پی‘‘ کی رکن اسمبلی جمیلہ گیلانی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کو اراکین کی کم حاضری پر سخت ایکشن لینا چاہیئے کیونکہ ان کے بقول یہ انتہائی نامناسب بات ہے۔

چوہدری نثار

چوہدری نثار

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے جمعرات کو نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ان کی جماعت ایوان میں اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔

’’جہاں تک ہماری پہنچ ہے، ہم انھیں چین سے اس ایوان میں بیٹھ کر میٹھی میٹھی اور شریں تقریریں نہیں کرنے دیں گے۔ یہ جمہوریت ہے جو ہم قومی اسمبلی میں کر رہے ہیں، ہم پاکستان کے عوام کی آواز یہاں پہنچا رہے ہیں کیوں کہ کوئی اور طریقہ ساڑھے چار سال کے بعد اس عوام نے ہمارے لیے نہیں چھوڑا۔‘‘

لیکن وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے جمعرات کو کابینہ کے وزراء اور پیپلز پارٹی کے اراکین پارلیمان سے غیر رسمی ملاقات میں کہا کہ اپوزیشن احتجاج کی بجائے بجٹ اجلاس میں تعمیری انداز میں شرکت کرے۔

ان کے اس موقف کی تائید کرتے ہوئے وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ حکمران پیپلز پارٹی کے اراکین پارلیمان میں تحمل کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔

قمر زمان کائرہ

قمر زمان کائرہ

’’احتجاج صرف یہ نہیں کہ ایک دوسرے کے گریبان پکڑے جائیں، بائیکاٹ کرنا بھی احتجاج ہوتا ہے، واک آوٹ اور نعرہ بازی بھی احتجاج کرنا ہوتا ہے۔ ہر روز دھینگا مشتی اور میلہ مویشاں نہں لگ سکتا۔ اگر ہمارے ساتھیوں نے تدبر اور تحمل کا مظاہرہ کرنا شروع کیا ہے اور چوہدری نثار صاحب کے چنگل سے باہر نکل آئے ہیں تو بڑی اچھی بات ہے۔‘‘

قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے قائدین دونوں کی ذمہ داری ہے کہ پارلیمان میں وہ اپنے اراکین کی حاضری کو یقینی بنائیں۔

XS
SM
MD
LG