رسائی کے لنکس

سیاسی جماعتوں کا فاٹا میں اصلاحات نافذ کرنے کا مطالبہ


سیاسی جماعتوں کا فاٹا میں اصلاحات نافذ کرنے کا مطالبہ

سیاسی جماعتوں کا فاٹا میں اصلاحات نافذ کرنے کا مطالبہ

فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کرنے والی اُن کی کمیٹی گذشتہ کئی ماہ سے تمام فریقین کے ساتھ صلاح و مشورے کرتی رہی ہے اور سب اس بات پر متفق ہیں کہ فاٹا میں امن کے حصول اور اس کے استحکام کے لیے اس خطے میں سیاسی، اقتصادی، سماجی اور انتظامی اصلاحات ناگزیرہیں۔ لیکن اُنھوں نے کہا کہ ان اصلاحات کے نفاذ میں قبائلی عوام کی خواہشات، روایات اور اقدار کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔

ملک کی نو بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی کے ارکان نے بدھ کو اسلام آباد میں اپنی پہلی نیوز کانفرنس میں صدر آصف علی زرداری سے اپیل کی کہ وہ قبائلی علاقوں کے لیے اصلاحات کے اُس پیکچ کو فوری طور پر لاگو کریں جس کا اُنھوں نے چودہ اگست 2009ء کو اعلان کیا تھا۔

حکمران پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ (ق)، متحدہ قومی موومنٹ اور جماعت اسلامی سمیت پاکستان کی نو بڑی جماعتوں کی مشترکہ کمیٹی برائے فاٹا اصلاحات کے ارکان نے مشترکہ نیوز کانفرنس میں خاص طور پر 2002ء کے سیاسی جماعتوں کے حکم نامے کے نفاذ کا بھی مطالبہ کیا تاکہ وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں سیاسی سرگرمیاں شروع کی جاسکیں۔

کمیٹی میں شامل دیگر جماعتیں نیشنل پارٹی، پختون خواہ ملی عوامی پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی (شیرپاؤ) ہیں۔

فرحت اللہ بابر

فرحت اللہ بابر

صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کمیٹی میں پیپلز پارٹی کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے کمیٹی کے ارکان کی طرف سے منظور کی گئی متفقہ قرارداد کے اہم نکات پیش کرتے ہوئے کہا کہ صدر پاکستان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ قبائلی علاقوں کے عوام اور سیاسی جماعتوں کی باہمی مشاورت سے فاٹا کے لیے ایک اقتصاد ی ترقیاتی پیکج کی تیاری اور اس پر عمل درآمد کا آغاز کریں تاکہ فاٹا اور ملک کے باقی حصوں کے درمیان ترقی کے فرق کو کم کیا جاسکے۔

اُنھوں نے اعتراف کیا کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں اس وقت امن و امان کی صورت حال تسلی بخش نہیں لیکن بقول فرحت اللہ بابر کہ سیاسی جماعتوں کا یہ پہلا قدم اس امید پر لیا گیا ہے کہ اس سے فاٹا کے دیرنہ مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔

”کوئی جماعت بھی راتوں رات فاٹا کے مسائل کے حل کی توقع نہیں کر رہی لیکن سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ملنے سے اس عمل کے ذریعے وہاں امن کے فروغ میں مدد ملے گی۔“

فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کرنے والی اُن کی کمیٹی گذشتہ کئی ماہ سے تمام فریقین کے ساتھ صلاح و مشورے کرتی رہی ہے اور سب اس بات پر متفق ہیں کہ فاٹا میں امن کے حصول اور اس کے استحکام کے لیے اس خطے میں سیاسی، اقتصادی، سماجی اور انتظامی اصلاحات ناگزیرہیں۔ لیکن اُنھوں نے کہا کہ ان اصلاحات کے نفاذ میں قبائلی عوام کی خواہشات، روایات اور اقدار کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی ان نو بڑی سیاسی جماعتوں کی نمائندہ کمیٹی میں جمیعت علمائے اسلام شامل نہیں ہے جس کا قبائلی علاقوں میں خاصا اثرو رسوخ ہے اور ملک کی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینٹ میں بھی فاٹا کے زیادہ تر اراکین کاتعلق بھی اسی جماعت سے ہے۔

سیا سی جماعتوں کی نمائندہ کمیٹی کے ارکان نے توقع ظاہر کی ہے کہ جمیعت علمائے اسلام بھی جلد ان کوششوں میں اُن کا ساتھ دے گی۔ فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ جے یو آئی کو نیوز کانفرنس کے بارے میں مطلع کیا گیا تھا لیکن تقریب میں اُس کی عدم شمولیت کے بارے میں فوری طور پر یقین سے کچھ کہنے سے قاصر ہیں۔

مبینہ امریکی ڈرون حلموں کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

مبینہ امریکی ڈرون حلموں کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

مشترکہ نیوز کانفرنس میں قبائلی علاقوں میں مبینہ امریکی ڈرون حملوں کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کا واضح الفاظ میں جواب دینے سے گریز کیا۔

کمیٹی میں جماعت اسلامی کے نمائندے پروفیسر محمدابراہیم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ تنقید درست نہیں فاٹا میں امن وامان کی بحالی سے قبل سیاسی اصلاحات کا نفاذ سود مند ثابت نہیں ہوگا۔”یہ اقدام امن وامان کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، امن وامان کی صورت حال ملک کے کئی حصوں میں اچھی نہیں ہے لیکن وہاں پرسیاسی جماعتوں کوکام کرنے کی اجازت ہے۔ اس لیے فاٹا میں بھی عوام کو اس بنیادی حق سے محروم رکھنا، صرف اس وجہ سے کہ امن وامان نہیں ہے درست نہیں ہوگا ، وہاں سیاسی جماعتیں کام کریں گی کہ تو یہ امن وامان کی بحالی کے راستے میں اچھا قدم ہوگا“۔

قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے پیپلز پارٹی شیرپاؤ گروپ کے سیاسی رہنماء اسد آفریدی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ فاٹا میں روایتی انتظامی نظام کی تبدیلی ناگزیر ہے۔

”انگریزوں نے جو سسٹم (نظام) بنایا تھا وہ طالبان کی آمد کے بعد ختم ہو گیا ہے کیوں کہ مَلک سسٹم تھا اور اُس کے نیچے پولیٹکل ایڈمنسٹریشن تھی، اُس میں طاقت، قوت تھی وہ اب طالبان کی آمد کے بعد بہت کمزور ہوچکا ہے“۔

اسد آفریدی کا کہنا ہے کہ قبائلی عوام نظام میں تبدیلی کے خواہاں ہیں۔

”لوگوں کی ضرورت ہے کہ فاٹا میں ریفارمز ہوں، اصلاحات ہوں، نئی لیڈرشپ (سامنے) آئے۔ کیوں کہ لوگ ملیٹنسی (عسکریت پسند) سے تنگ آچکے ہیں، عاجز آچکے ہیں۔“

جمہوری ترقی کے عمل میں تعاون کرنے والی امریکہ میں قائم تنظیم نیشنل ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی اُمور، این ڈی آئی، نے فاٹا میں سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے مابین صلاح مشوروں کے لیے اجلاسوں کے انعقاد میں معاونت فراہم کی اور بدھ کو مشترکہ کمیٹی برائے فاٹا اصلاحات کی نیوز کانفرنس بھی اس غیر سرکاری امریکی تنظیم کے تعاون سے منعقد کی گئی۔ فرحت اللہ بابر نے اس ضمن میں این ڈی آئی کی کوششوں کو سراہا اور اُس کا شکریہ ادا کیا۔

XS
SM
MD
LG