رسائی کے لنکس

پاکستان نے پہلی مرتبہ بھارت کے خلاف ٹھوس ثبوت پیش کیا ہے: تجزیہ کار

  • عشرت سلیم

پاکستان میں پکڑا جانے والے مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو

پاکستان میں پکڑا جانے والے مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو

نسیم زہرہ کے بقول پاکستان کی حکومت تعلقات کی بہتری کی مخلصانہ کوششیں کر رہی ہے اور یہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے تاہم پاکستان کو اس معاملے پر بھارت سے دوٹوک بات کرنے سے گھبرانا نہیں چاہیئے۔

بھارت نے پاکستان کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ پاکستان میں پکڑا جانے والا بھارتی شہری خفیہ ادارے ’را‘ کے لیے کام کر رہا تھا۔ بھارت کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ مبینہ جاسوس کلبھوشن یادو کے بیان میں کوئی حقیقت نہیں۔

تاہم پاکستانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کئی سالوں سے بھارت کی طرف سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے دعووں کے بعد حکام نے پہلی مرتبہ پاکستان میں تخریبی کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کا ٹھوس ثبوت پیش کیا ہے۔

منگل کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں فوج اور حکومت کے عہدیداروں نے مبینہ طور پر ایران پاکستان سرحد پر پکڑے جانے والے بھارتی شہری کلبھوشن یادو کا ایک وڈیو بیان نشر کیا تھا جس میں اس نے اعتراف کیا کہ وہ ’را‘ کے لیے کام کرتا ہے۔

مبینہ جاسوس کی گرفتاری سے دونوں ممالک کے پہلے سے کشیدہ تعلقات نے ایک نیا رخ اختیار کیا ہے۔

صحافی اور سیاسی تجزیہ کار نسیم زہرہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ ایک بہت اہم پیش رفت ہے اور اس پر دونوں ممالک کو کھل کر بات کرنا ہو گی۔

’’پہلے تو پاکستان کو بہت کھل کر یہ معلومات سامنے لانا ہوں گی۔ اور دوسرا جب مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے تو یہ بات کرنی پڑے گی سیاسی اور سفارتی دونوں سطح پر کہ آپ فیصلہ کر لیں کہ یا تو ہمارے ملک میں عدم استحکام پیدا کریں یا تعاون کے لیے بات چیت کریں۔‘‘

نسیم زہرہ کے بقول پاکستان کی حکومت تعلقات کی بہتری کی مخلصانہ کوششیں کر رہی ہے اور یہ دونوں ممالک کے مفاد میں بھی ہے تاہم پاکستان کو اس معاملے پر بھارت سے دوٹوک بات کرنے سے گھبرانا نہیں چاہیئے۔

تجزیہ کار ہمار بقائی نے کہا کہ بھارت اپنے ملک میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کا الزام پاکستان میں موجود غیر ریاستی عناصر پر عائد کرتا رہا ہے مگر پاکستان کو بھارتی ریاست کے پاکستان میں ملوث ہونے کا واضح ثبوت حاصل ہوا ہے۔

’’میں نہیں سمجھتی کہ اس سے تعلقات خراب ہوں گے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ پاک بھارت تعلقات کو برابری کی سطح پر لائے۔ پاکستان پر جو ایک مستقل دباؤ تھا کہ پاکستان دہشت گردی کی معاونت کرنے والی ریاست ہے، اور پاکستان کی ساری شرارت کرتا ہے اور مسئلے کا مؤجب ہے، میرا خیال ہے کہ وہ دباؤ پاکستان پر یقیناً کم ہو گا۔‘‘

ہما بقائی کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت کے بعد پاکستان اب بہتر طریقے سے بھارت کے ساتھ اپنے مؤقف کا دفاع کر سکتا ہے۔

تاہم بھارت کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں بدامنی پھیلانے کا خواہاں نہیں ہے۔

یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پٹھان کوٹ حملے کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کے لیے پاکستان کی تحقیقاتی ٹیم بھارت میں ہے۔ اس حملے کا الزام بھارت نے پاکستان پر عائد کیا تھا اور پاکستان نے بھارت کی طرف سے دی گئی معلومات پر کارروائی کا بھی وعدہ کیا تھا۔

تاہم ہما بقائی نے کہا ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان کو پوری معلومات فراہم نہ کیں تو پاکستان کے لیے کوئی بامعنی کارووائی یا انٹیلی جنس پر تعاون کرنا مشکل ہوگا۔

XS
SM
MD
LG