رسائی کے لنکس

روس کے ساتھ تعلقات خطے کی سلامتی کے لیے مثبت: جنرل باجوہ


روسی سفیر کی جنرل باجوہ سے ملاقات

روسی سفیر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اقتصادی ترقی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے حال ہی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے شروع کیے گئے آپریشن رد الفساد کی تعریف کی۔

بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان فوجی تعاون کے خطے کی سلامتی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

یہ بات انھوں نے پاکستان کے لیے روسی سفیر ایلکسی یوریوچ دیودف سے گفتگو میں کہی جنہوں نے منگل کو جنرل باجوہ سے راولپنڈی میں ملاقات کی۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ "آئی ایس پی آر" کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ فوج کے صدر دفتر (جی ایچ کیو) میں ہونے والی ملاقات میں روسی سفیر دیودف ںے پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں میں ہونے والے جانی نقصان پر اپنے ملک کی طرف سے تعزیت کا اظہار کیا۔

سفیر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اقتصادی ترقی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے حال ہی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے شروع کیے گئے آپریشن رد الفساد کی تعریف کی۔

بیان کے مطابق روسی سفیر کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے میں کردار ادا کرے گا۔

دونوں عہدیداروں کے درمیان اس موقع پر خطے کی سلامتی سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات میں حالیہ برسوں میں ماضی کی نسبت قابل ذکر بہتری دیکھنے میں آئی ہے جس میں خاص طور پر دفاعی شعبے میں تعاون کا فروغ شامل ہے۔

رواں ماہ ہی پاکستان کی بحریہ کی طرف سے منعقدہ کثیر القومی بحری مشقوں میں روس نے بھی حصہ لیا تھا جب کہ پاکستان اور روس کے فوجیوں کی پہلی مشترکہ مشقیں گزشتہ سال ستمبر میں ہو چکی ہیں۔

2014ء میں روس نے پاکستان کو ہتھیاروں کی فراہمی پر عائد پابندی اٹھا لی تھی جس کے بعد سے ماسکو کی طرف سے اسلام آباد کے لیے لڑاکا ہیلی کاپٹروں کی فراہمی کا معاہدہ بھی ہوا۔

XS
SM
MD
LG