رسائی کے لنکس

10 مغوی پاکستانی اہلکاروں کی لاشیں برآمد


10 مغوی پاکستانی اہلکاروں کی لاشیں برآمد
10 مغوی پاکستانی اہلکاروں کی لاشیں برآمد

پاکستان میں حکام کوقبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی سے اُن دس سکیورٹی اہلکاروں کی لاشیں ملیں ہیں جنہیں مشتبہ طالبان ایک فوجی چوکی پر حملے کے دوران یرغمال بنا کر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

پیر کے روز اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے فوجی ذرائع نے بتایا کہ 21 دسمبر کو ڈبوری کے علاقے مقصود نامی چیک پوسٹ پر کیے گئے اس حملے میں عسکریت پسندوں نے دس اہلکاروں کو اغوا کیا تھا جبکہ لڑائی میں کم ازکم تین دیگراہلکار ہلاک اور22 زخمی ہوگئے تھے۔ پاکستانی حکام نے جوابی کارروائی میں 22 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

بعض اطلاعات کے مطابق مذاکرات کے نتیجے میں طالبان کو ان کے دس ساتھیوں کی لاشیں واپس کرنے کے بدلے میں مغوی اہلکاروں کی لاشیں سکیورٹی حکام کے حوالے کی گئیں۔ تاہم حکام نے فوری طور لاشوں کے تبادلے کی اطلاعات کی تصدیق نہیں کی ہے۔

پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کو اغوا کرنے کے بعد قتل کر کے اُن کی لاشیں پھینک دینے کا رواں ہفتے یہ دوسرا واقعہ ہے اور ان میں مجموعی طور پر25 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے شمالی وزیرستان کے ایک دور دراز علاقے سے بھی نیم فوجی فورس ’فرنٹیئر کانسٹبلری‘ کے 15 اہلکاروں کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں جنہیں 23 دسمبر کو ٹانک میں ایک فوجی قلعہ پر دھاوا بولنے والے سینکڑوں طالبان جنگجوؤں نے اغوا کرلیا تھا۔

سرکاری افواج کو ہلاک کرنے کے ان دونوں واقعات سے ذرائع ابلاغ کی اُن اطلاعات کی نفی ہوئی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی حکومت اور کالعدم تحریک طالبان کے درمیان امن مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی خاطر اعتماد سازی کے اقدامات کے سلسلے میں جنگجوؤں نے اپنے حملوں کا سلسلہ روک دیا ہے۔

پاکستان میں اعلٰی حکام عسکریت پسندوں کے ساتھ بات چیت کی اطلاعات کی پہلے ہی تردید کرچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG