رسائی کے لنکس

'شیشہ' دمے کے مرض میں اضافے کا باعث

  • حسن سید

'شیشہ' دمے کے مرض میں اضافے کا باعث

'شیشہ' دمے کے مرض میں اضافے کا باعث

نوجوانوں میں ’شیشہ‘ پینے کے بڑھتے ہوئے رجحان سے دمے کے مرض میں اضافہ ہو رہا ہے جو طبی ماہرین کے مطابق صرف ایک ’’ابتدائی نقصان‘‘ ہے کیونکہ آگے چل کر یہی نشہ پھیپھڑوں کے سرطان اور دل کے امراض سمیت کئی تکالیف کا باعث بن سکتا ہے۔

طبی ماہرین اور سرکاری عہدیداروں نے نوجوان نسل میں ’شیشہ‘ پینے کےبڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سگریٹ نوشی سے کہیں زیادہ نقصان دہ تمباکو کا یہ ذائقےدار نشہ خصوصاً نوجوانوں میں دمے سمیت سانس کی دیگر بیماریوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں امراض اطفال کے ماہر ڈاکٹر جواد جلیل نے کہا کہ فضائی آلودگی اور دوسرے عوامل کے ساتھ ساتھ ’شیشہ‘ کا بڑھتا ہوا استعمال اس کے عادی افراد کو دمے کی طرف دھکیل رہا ہے اوراُن کے ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کی عمریں پندرہ سال یا اس سے کم ہیں۔

طبی ماہرین کے اندازوں کے مطابق اس وقت پاکستان میں دمےکے مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد کم از کم ایک کروڑہو سکتی ہے۔ تاہم اس بارے میں سرکاری طور پر مصدقہ اعداد وشمار دستیاب نہیں۔

وفاقی وزارت صحت کے انسداد تمباکو نوشی ونگ سے منسلک ڈاکٹر ضیاء الدین بھی مانتے ہیں کہ نوجوانوں میں ’شیشہ‘ پینے کے بڑھتے ہوئے رجحان سے دمے کے مرض میں اضافہ ہو رہا ہے جو ان کے مطابق صرف ایک ’’ابتدائی نقصان‘‘ ہے کیونکہ آگے چل کر یہی نشہ پھیپھڑوں کے سرطان اور دل کے امراض سمیت کئی تکالیف کا باعث بن سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک گھنٹہ ’شیشہ‘ پینے کا نقصان دو سو سگریٹ پینے کے برابر ہے۔ انھوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ نئی نسل کی اکثریت ’شیشہ‘ سے جڑے سنگین خطرات سے آشنا نہیں اس لیے وہ اسے مضر صحت تصور نہیں کرتی۔

حکومتی عہدیدارریستورانوں میں ’شیشہ‘ کی دستیابی کو انسداد منشیات قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں اوراس ضمن میں مالکان کوانتباہی خطوط بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔

انسداد تمباکو نوشی ونگ کے ڈاکڑ ضیاء نے بتایا کہ وفاقی سطح پر ’شیشہ‘ گھروں کے خلاف مہم شروع کی ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو پانچ ہزار سے ایک لاکھ تک جرمانے کے علاوہ کم از کم تین ماہ قید یا پھر دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اب یہ صوبائی حکومتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ہاں شیشہ گھروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں۔

تاہم سرکاری دعوؤں کے باوجود دوسرے بڑے شہروں کی طرح دارالحکومت اسلام آباد میں مختلف مقامات پرنوجوانوں کے غول کے غول ’شیشہ‘ سے لطف اندوز ہوتے دیکھے جاسکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG