رسائی کے لنکس

فائرنگ سے پاکستانی طالبان کا ایک اہم کمانڈر ہلاک


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سینیئر کمانڈر عاشق اللہ محسود کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خودکش بمباروں کو تربیت دینے کا ماہر تھا۔

قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سینیئر کمانڈر عاشق اللہ محسود کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا ہے۔

عاشق اللہ محسود کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خودکش بمباروں کو تربیت دینے کا ماہر تھا۔

قبائلی ذرائع کے مطابق عاشق اللہ کو میرعلی کے علاقے میں فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔

طالبان کمانڈر کا قتل بظاہر تنظیم کے متحارب دھڑوں کے درمیان آپس کی لڑائی کا شاخسانہ ہے۔

خان سید سجنا اور شہریار محسود گروپ کے درمیان حالیہ ہفتوں میں ہونے والی لڑائی میں درجنوں جنگجو مارے جا چکے ہیں۔

حال ہی میں خان سید سجنا نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔ گزشتہ سال نومبر میں حکیم اللہ محسود کی ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد خان سید سجنا کو تحریک کے سربراہ کے لیے کا ایک مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا تھا لیکن طالبان شوریٰ کی طرف سے سوات سے تعلق رکھنے والے ملا فضل اللہ کو امیر منتخب کیا گیا جس کے بعد سے سجنا کا طالبان کے دیگر دھڑوں سے اختلاف شروع ہو گیا تھا۔

اُدھر پاکستان کے عسکری ذرائع کے مطابق بدھ کو سرحد پار افغانستان سے باجوڑ ایجنسی میں فوجی چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے میں مرنے والےاہلکاروں کی تعداد سات ہوگئی ہے۔

پاکستان نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے افغان حکام سے احتجاج بھی کیا تھا۔
XS
SM
MD
LG