رسائی کے لنکس

اصلاحاتی ٹیکس بل کی منظوری کے لیے رابطے


اصلاحاتی ٹیکس بل کی منظوری کے لیے رابطے
اصلاحاتی ٹیکس بل کی منظوری کے لیے رابطے

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور پاکستان کو امداد دینے والے ممالک بشمول امریکہ نے بھی کہا ہے کہ حکومت صاحب حیثیت پاکستانیوں کو ٹیکس اداکرنے کا پابند بنانے کے ساتھ ساتھ محصولات کے نظام میں اصلاحات کو یقینی بنائے ۔ رواں ہفتے کے اوائل میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے بھی پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں سے خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان میں طویل المدتی ترقی اور خوشحالی کے لیے ملک کے ٹیکس نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔

اصلاحاتی جنرل سیلز ٹیکس یعنی ریفارمڈجی ایس ٹی کے مسودے کو قومی اسمبلی سے منظور کروانے کے لیے ان دنوں حکومت نہ صرف اپنی اتحادی جماعتوں بلکہ حز ب اختلاف کی پارٹیوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اُن سے رابطوں میں مصروف ہے ۔ ایک روز قبل وفاقی وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے بھی ملاقات کی لیکن اس بل کے بارے میں حزب اختلاف کی جماعت کی حمایت حاصل کرنے میں اُنھیں کامیابی نہیں ہو سکی ہے۔

تاہم وفاقی وزرات پارلیمانی اُمور کے مشیراور حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے سینئرعہدیدار اظہار امروہوی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حکومت پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں کے ساتھ مشاور ت کے بعد ہی اصلاحاتی جنرل سیلز ٹیکس کے بل کو منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا ۔ اُنھوں نے بتایا کہ بعض جماعتوں کا اندیشہ ہے کہ اس قانون کی منظوری کے بعد مہنگائی میں اضافہ ہوگا لیکن اُن کے بقول یہ تاثر درست نہیں ہے۔

اس سے قبل وفاقی وزیر خزانہ اور دیگر وفاقی وزراء بھی کہہ چکے ہیں کہ اس وقت ملک میں مختلف اشیا ء اور سروسز سیکٹر میں ٹیکس کی شرح 17 سے25 فیصد تک ہے لیکن مجوزہ اصلاحات کے تحت 15فیصد یکساں ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے اور ایسی سینکڑوں اشیاء پر ٹیکس کو دائرہ کار میں لایاجائے گا جن پرپہلے ٹیکس نافذنہیں تھا۔ وزرات خزانہ کا کہنا ہے کہ چاول ، دالیں ،گندم اور دیگر بنیادی اشیائے ضروری اصلاحاتی جنرل سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گی۔

دریں اثنا حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے ہفتے کو ایک جلسہ عام سے خطاب میں کہا کہ اُن کی جماعت اس قانون کی قومی اسمبلی میں بھرپور مخالفت کرے گی۔

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور پاکستان کو امداد دینے والے ممالک بشمول امریکہ نے بھی کہا ہے کہ حکومت صاحب حیثیت پاکستانیوں کو ٹیکس اداکرنے کا پابند بنانے کے ساتھ ساتھ محصولات کے نظام میں اصلاحات کو یقینی بنائے ۔ رواں ہفتے کے اوائل میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے بھی پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں سے خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان میں طویل المدتی ترقی اور خوشحالی کے لیے ملک کے ٹیکس نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔

ایوان بالا یعنی سینٹ نے اصلاحاتی جنرل سیلز ٹیکس میں تجویز کردہ سفارشات کو قومی اسمبلی میں بحث کے لیے بھیجنے کے منظور ی دے رکھی ہے اور وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ تمام سفارشات پر غورکیا جائے گا۔

سینٹ میں حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیوایم اور جمعیت علماء اسلام فضل الرحمن گروپ نے اس کی مخالفت کی تھی تاہم حکمران جماعت کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے کوششیں کررہی ہے۔

XS
SM
MD
LG