رسائی کے لنکس

افغانستان انسداد دہشت گردی میں پاکستان کا ساتھ دینے پر آمادہ: پرویز رشید


وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید (فائل فوٹو)

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید (فائل فوٹو)

مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان انسداد دہشت گردی میں معاونت وقت کی اہم ضرورت ہے اور افغانستان میں قیادت کی تبدیلی کے بعد اس ضمن میں روابط بہتری کی طرف گامزن دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے انسداد دہشت گردی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کسی مسلح گروہ کو ملک کی سرزمین نہ پاکستان اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے گی۔

اتوار کو ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ میں افغانستان بھی اب پاکستان کا ساتھ دینے پر آمادہ ہے کیونکہ امن کا قیام خطے کے مشترکہ مفاد میں ہے۔

حالیہ برسوں میں پاکستان اور افغانستان دہشت گردوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں اور اسی بنا پر ان کے تعلقات میں اکثر تناؤ دیکھنے میں آ چکا ہے۔

لیکن پرویز رشید کے بقول وزیر اعظم نواز شریف نے افغانستان کو دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کا ہم خیال بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور اب بھی اسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کی جنگ ان تمام عناصر کے خلاف ہے جو بندوق کے زور پر اپنا ایجنڈا قوم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کو گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے دہشت گردی و انتہا پسندی کا سامنا ہے اور رواں برس جون کے وسط سے پاکستانی فوج نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ملکی و غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

لیکن 16 دسمبر کو پشاور کے ایک اسکول پر ہوئے دہشت گردانہ حملے میں 133 بچوں سمیت 149 افراد کی ہلاکت کے بعد ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے۔

پاکستانی عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے شدت پسند کمانڈر ملا فضل اللہ اپنے ساتھوں سمیت مشرقی صوبہ کنڑ میں روپوش ہے جس کے خلاف کارروائی کے لیے اسلام آباد کو کابل کا تعاون درکار ہے۔

پشاور میں ملکی تاریخ کے بدترین دہشت گردانہ حملے کے فوری بعد بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کابل جا کر افغان صدر اشرف غنی، اپنے افغان ہم منصب اور بین الاقوامی اتحادی افواج کے سربراہ سے ملاقاتیں کیں اور انھیں افغانستان میں موجود ان دہشت گردوں سے متعلق تفصیلات فراہم کیں جو پاکستان میں پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

گزشتہ ہفتے ہی افغان سکیورٹی فورسز نے صوبہ کنڑ میں کارروائیاں کر کے کم ازکم 21 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان انسداد دہشت گردی میں معاونت وقت کی اہم ضرورت ہے اور افغانستان میں قیادت کی تبدیلی کے بعد اس ضمن میں روابط بہتری کی طرف گامزن دکھائی دیتے ہیں۔

سینیئر تجزیہ کار اے زیڈ ہلالی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا۔

" اشرف غنی جب سے (اقتدار میں) آئے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ اس خطے میں قیام امن کو یقینی بنایا جائے اور کم ازکم پاکستان کے ساتھ معاملات میں ایک ہم آہنگی کا فروغ ہو۔۔۔کنڑ میں جو افغان افواج کارروائیاں کر رہی ہیں وہ بھی اسی کا حصہ ہے کہ پاکستان کے جو خدشات ہیں تشویش ہے اس کو دور کیا جاسکے۔"

ملک سے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں تیزی کے بعد کسی بھی ممکنہ ردعمل کے پیش نظر ملک کے اسکولوں میں ایک ہفتہ قبل ہی موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اسکول دو جنوری سے کھل جائیں گے لیکن اتوار کو سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پنجاب میں اسکولوں کی چھٹیوں میں مزید دس دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG