رسائی کے لنکس

ڈیوڈ کیمرون پاکستان مخالف موقف پر قائم

  • ب

ڈیوڈ کیمرون نے گذشتہ بدھ بھارت کے دورے میں کہا تھا کہ پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں کے ایسے عسکریت پسندوں کے ساتھ روابط ہیں جو بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں اور اطلاعات کے مطابق برطانوی وزیر اعظم کے دفتر ٹین ڈاؤنگ سٹریٹ کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اپنے بیان پر قائم ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے پاکستان پر دہشت گردی برآمد کرنے کے حالیہ الزام پر اپنا موقف تبدیل کرنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری رواں ہفتے برطانوی رہنما سے ملاقات میں ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔

ڈیوڈ کیمرون نے گذشتہ بدھ بھارت کے دورے میں کہا تھا کہ پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں کے ایسے عسکریت پسندوں کے ساتھ روابط ہیں جو بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں اور اطلاعات کے مطابق برطانوی وزیر اعظم کے دفتر ٹین ڈاؤنگ سٹریٹ کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اپنے بیان پر قائم ہیں۔

اُن کے اس بیان پر پاکستانی وزیراعظم اور وزیرخارجہ سمیت حزب اختلاف کی جماعتوں بشمول مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے شدید تنقید کی تھی ۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کا یہ بھی موقف تھا کہ صدر زرداری کو اپنا برطانیہ کا دورہ منسوخ کر دینا چاہیے لیکن اس کے باوجود پاکستانی صدر رواں ہفتے برطانیہ کا دورہ کر رہے ہیں۔

دریں اثناء پیر کو دارالحکومت اسلام آباد میں برطانوی سفیر ایڈم تھامسن کو دفتر خار جہ طلب کر کے اُنھیں ڈیوڈ کیمرون کے پاکستان مخالف بیان پر پاکستانی حکومت اور عوام کے ردعمل سے آگاہ کیا گیا۔

دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے برطانوی سفارت کار سے ملاقات میں بتایا کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور تمام ممالک کو مل کر پورے عزم کے ساتھ اس کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہئیے نہ کہ تمام تر ذمہ داری ایک ہی ملک پر ڈال دی جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی کاشکار ہے اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے اس کی کوششوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

برطانوی سفیر نے ملاقات میں یہ وضاحت بھی پیش کی کہ ڈیوڈ کیمرون نے بیان کس تناظر میں دیا تھا۔ سرکاری بیان کے مطابق ایڈم تھامسن نے وزیرخارجہ قریشی کو بتایا کہ اُن کا ملک آئندہ مہینوں اور سالوں میں پاکستان کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا خواہاں ہے۔

حزب مخالف کی تنقید کے باوجود صدر زرداری برطانیہ کا دورہ کر رہے ہیں

حزب مخالف کی تنقید کے باوجود صدر زرداری برطانیہ کا دورہ کر رہے ہیں

بیان کے مطابق پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے درمیان رواں ہفتے ہونے والی ملاقات نہ صرف دونوں رہنماؤں کو ایک دوسرے کے موقف کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع فراہم کرے گی بلکہ یہ باہمی تعلقات کو مزید بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔

واضح رہے کہ پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے ایک وفد کے ہمراہ پیر کو انسداد دہشت گردی پر دو طرفہ بات چیت کے لیے برطانیہ روانہ ہونا تھا مگر ڈیوڈ کیمرون کے بیان کے پس منظر میں یہ دورہ احتجاجاً منسوخ کر دیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG