رسائی کے لنکس

پاکستان کی نصف آبادی بہتر معیار زندگی سے محروم: رپورٹ


پاکستان کی نصف آبادی بہتر معیار زندگی سے محروم: رپورٹ

پاکستان کی نصف آبادی بہتر معیار زندگی سے محروم: رپورٹ

اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اقتصادی ترقی کی سست رفتاری کے باعث تقریباً نصف آبادی صحت ، تعلیم اور بہتر معیار زندگی جیسی سہولتوں سے محروم ہیں جبکہ مزید 11 فیصد آبادی کو ان محرومیوں سے دوچار ہونے کا خدشہ ہے۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے نے منگل کو اسلام آباد میں انسانی ترقیاتی رپورٹ 2011 ء کا اجرا کیا ۔ تقریب سے خطاب میں منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیرمین ندیم الحق نے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں انسانی ترقی کے لحاظ سے کارکردگی بہتر نہ ہونے کی وجہ انتظامی نظام میں پائے جانے والے نقائص ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں انسانی ترقی اور معیاری زندگی بہتر کرنے کے لیے معاشی ترقی میں استحکام بہت ضروری ہے۔ ’’پاکستان میں معاشی شرح نمو اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے اور یہ کبھی مستحکم نہیں ہو سکی۔ متوسط آمدن والے ممالک کی فہرست میں شامل ہونے کے لیے پاکستان کو 20 سے 30 سالوں تک کم ازکم 7 فیصد مستحکم شرح نمو سے ترقی کرنا ہو گی۔‘‘

تقریب میں عوامی نیشنل پارٹی کی رکن قومی اسمبلی بشریٰ گوہر بھی شریک تھیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ 60 سالوں میں ہونے والی ترقیاتی منصوبہ بندی سے عام آدمی مستفید نہیں ہو سکا ہے۔ بلواسطہ طور پر دفاع پر کئے جانے والے اخراجات پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ملک میں صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر توجہ نہیں دی جاتی ہے جس کے باعث پاکستان میں عوام کا معیار زندگی پست ہے۔

حکمران اتحاد میں شامل ہونے کے باوجود بشریٰ گوہر کا کہنا تھا کہ عوام کی بہتری کے لیے منصوبہ بندی کرنے والے طبقے کی اکثریت کو زندگی کی تمام آسائشیں میسر ہیں اس لیے وہ عوامی مسائل سے بے خبر ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق انسانی ترقی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کے 187 ملکوں کی فہرست میں 145 ویں نمبر پر ہے۔ جبکہ ہمسایہ ملک بھارت 134 ویں اور بنگلہ دیش کا 146 واں نمبر ہے۔ خواتین کی ترقی کے لحاظ سے 146 ملکوں کی فہرست میں پاکستان کا شمار 115 ویں نمبر پر ہوتا ہے۔ ملک کی افرادی قوت میں خواتین کا تناسب صرف 22 فیصد ہے اور تقریباً 24 فیصد لڑکیاں آٹھوویں جماعت تک تعلیم حاصل کر پاتی ہیں۔ تاہم اقوام متحدہ کی رپورٹ میں پاکستان کے پارلیمان میں خواتین کی 21 فیصد نمائندگی کو سراہا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG