رسائی کے لنکس

بلوچستان: بم دھماکے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک

  • ستار کاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

فرنٹیئر کور بلوچستان کے مطابق سال 2015 میں صوبے کے مختلف اضلاع میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ عسکری تنظیموں کے خلاف تین ہزار سے زائد آپریشن کیے گئے جن میں 253 شرپسندوں کو ہلاک اور متعدد کو گرفتار کیا گیا۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں ہفتہ کو ایک بم دھماکے میں لیویز فورس کے دو اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔

حکام کے مطابق گوادر کے علاقے جیونی میں یہ اہلکار پہاڑی چشمے سے پانی لینے کے لیے جا رہے تھے کہ ان کی گاڑی سڑک میں نصب دیسی ساختہ بم کی زد میں آگئی۔

دھماکے سے گاڑی کو شدید نقصان پہنچا اور ویران علاقہ ہونے کی وجہ سے زخمیوں کو اسپتال پہنچانے میں تاخیر ہوئی۔

دو اہلکار اسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گئے جب کہ تین زخمیوں سے میں دو کی حالت بھی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

تاحال اس واقعے کی ذمہ داری کسی فرد یا گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں سکیورٹی فورسز سکیورٹی فورسز کے خلاف یہ تشدد کا دوسرا واقعہ ہے۔

جمعہ کو کوئٹہ کے رہائشی علاقے ملتانی محلے میں پولیس کی ایک چوکی پر نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔

تشدد کے تازہ واقعات ایک ایسے وقت رونما ہوئے ہیں جب کہ رواں ہفتے ہی سکیورٹی فورسز کے حکام نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے دیگر حصوں کی طرح صوبہ بلوچستان میں بھی عسکریت پسندوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں جن میں خاطر خواہ میابیاں حاصل ہو رہی اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتری کی طرف گامزن ہے۔

فرنٹیئر کور بلوچستان کے مطابق سال 2015 میں صوبے کے مختلف اضلاع میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ عسکری تنظیموں کے خلاف تین ہزار سے زائد آپریشن کیے گئے جن میں 253 شرپسندوں کو ہلاک اور متعدد کو گرفتار کیا گیا۔

اس دوران فرنٹیئر کور کے اہلکاروں پر شدت پسندوں کی طرف سے 941 حملے جن میں 43 اہلکاروں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔

ایف سی کی طرف سے ذرائع ابلاغ کو جاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال پاک افغان سرحد پر منشیات، اسلحہ کی غیر قانونی تجارت، اسمگلروں اور دہشت گردوں کی دراندازی کو موثر طور پر روکنے میں بھی قابل ذکر کامیابی حاصل ہوئی۔

فرنٹیئر کور بلوچستان کے سربراہ میجر جنرل شیرافگن کا کہنا ہے کہ صوبے میں عسکریت پسندوں کے کچھ ٹھکانے موجود ہیں لیکن انھیں مکمل طور پر ختم کیا جائے گا۔

"جس طریقے سے بلوچستان میں امن آرہا ہے ہر آنے والا دن بہتر ہوگا۔۔۔خطرات رہیں گے اور ہم ان کا مقابلہ کرنے کے لیے موجود ہوں گے اب بھی ان (شدت پسندوں) کا کچھ بنیادی ڈھانچہ موجود ہے اس لیے وہ وقتاً فوقتاً حملے کرتے ہیں لیکن ہمیں اس سے خائف نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اگر پوری قوم کا عزم ہے کہ ہم نے دہشت گردی سے اپنے ملک اور بلوچستان کو پاک کرنا ہے تو اس میں ہم کامیاب ہوں گے۔"

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری شورش پسندی سے نمٹنے کے لیے کارروائیاں تو کرتی آرہی تھیں لیکن ان میں گزشتہ سال دہشت گردی و انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے قومی لائحہ عمل وضع کیے جانے کے بعد تیزی آئی ہے۔

XS
SM
MD
LG