رسائی کے لنکس

شہباز بھٹی کے قتل پر اقلیتی اراکین اسمبلی کا احتجاج

  • ج

سول سوسائٹی کے کارکنوں نے وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے قتل کے خلاف جمعرات کو اسلام آباد میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا۔

سول سوسائٹی کے کارکنوں نے وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے قتل کے خلاف جمعرات کو اسلام آباد میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا۔

عوام کے منتخب کردہ اقلیتی نمائندوں کا کہنا تھا کہ ملک میں مٹھی بھر افراد نے اکثریت کو یرغمال بنا رکھا ہے جس کی وجہ سے اقلیتی برادری عدم تحفظ کا شکار ہے۔ اُنھوں نے متنبہ کیا کہ اگر اقلیتی برادری پرتشدد کارروائیوں کا نشانہ بنتی رہی تو ملک کے سیاسی افراتفری اور بدامنی کی لپیٹ میں آ جانے کا خطرہ ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے اقلیتی اُمور شہباز بھٹی کے قتل کی مذمت اور اس واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبات کا سلسلہ جمعرات کو بھی جاری رہا۔

اقلیتی عیسائی برادری سے تعلق رکھنے والے حکمران پیپلز پارٹی کے اس سیاسی رہنما کو بدھ کی صبح دارالحکومت اسلام آباد میں اُن کے رہائش گاہ کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے گھات لگا کر کیے گئے حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔

جائے وقوعہ سے پولیس کو ملنے والے پیمفلٹس میں اس حملے کی ذمہ داری طالبان کے حامی شدت پسندوں نے قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ شہباز بھٹی کو توہین رسالت سے متعلق قانون کی مخالفت کرنے کی سزا دی گئی ہے۔

اس قاتلانہ حملے کی تحقیقات جاری ہیں اور اسلام آباد پولیس نے ایک مشتبہ حملہ آور کا خاکہ بھی جاری کر دیا ہے تاہم اب تک کسی ٹھوس پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

دریں اثنا جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے آغاز پر اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے اراکین نے وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے قتل پر احتجاج کرتے ہوئے علامتی ’واک آؤٹ‘ کیا اور اُن کے ساتھ اظہار یک جہتی کے طور پر حزب اقتدار اور حزب مخالف کے اراکین بھی ایوان سے باہر چلے گئے۔

علامتی احتجاج کے بعد ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع کی گئی جس میں اراکین پارلیمان نے شہباز بھٹی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بہتر بنانے کی بھرپور کوشش کی۔

تاہم عوام کے منتخب کردہ اقلیتی نمائندوں کا کہنا تھا کہ ملک میں مٹھی بھر افراد نے اکثریت کو یرغمال بنا رکھا ہے جس کی وجہ سے اقلیتی برادری عدم تحفظ کا شکار ہے۔ اُنھوں نے متنبہ کیا کہ اگر اقلیتی برادری پرتشدد کارروائیوں کا نشانہ بنتی رہی تو ملک کے سیاسی افراتفری اور بدامنی کی لپیٹ میں آ جانے کا خطرہ ہے۔

ایوان سے اپنے مختصر خطاب میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے شہباز بھٹی کے قتل پر تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رکھا جائے۔

مقامی ذرائع ابلاغ نے بھی اپنی خبروں اور اداریوں میں شہباز بھٹی کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی ملک کو بدامنی کی طرف دھکیل رہی ہے۔

مقامی اخبارات نے وفاقی وزیر کے قتل کو بین المذاہب ہم آہنگی کی آواز کو دبانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا ہے۔

آنجہانی وفاقی وزیر شہباز بھٹی

آنجہانی وفاقی وزیر شہباز بھٹی

اُدھر ملک میں عیسائیوں سمیت دیگر اقلیتی برادری اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں شہباز بھٹی کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں حکومت سے مسلسل مطالبہ کر رہی ہیں کہ ناصرف وفاقی وزیر کے قاتلوں کو جلد سے جلد گرفتار کیا جائے بلکہ جو لوگ جلسے جلوسوں میں اشتعال انگیز بیانات دے کر لوگوں کو ایسے اقدامات پر اکسا رہے ہیں ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔

XS
SM
MD
LG