رسائی کے لنکس

بدھ کو آخری ٹیسٹ کے چوتھے روز پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو جیت کیلئے 153 رنز کا نسبتاً آسان ہدف دیا جس کےتعاقب میں ویسٹ انڈیز کا آغاز بھی مایوس کن رہا اور صرف 67 رنز پر اس کی آدھی ٹیم پویلین لوٹ گئی۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلا جانے والا شارجہ ٹیسٹ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگیا ہے ۔ ویسٹ انڈیز کو سیریز کے پہلے میچ میں فتح کیلئے صرف 39رنز درکار ہیں جبکہ پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی اور ایک روزہ انٹرنیشنل میچز کے بعد ٹیسٹ سیریز میں بھی کلین سوئپ کیلئے 5 وکٹوں کی ضرورت ہے۔

بدھ کو آخری ٹیسٹ کے چوتھے روز پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو جیت کیلئے 153 رنز کا نسبتاً آسان ہدف دیا جس کےتعاقب میں ویسٹ انڈیز کا آغاز بھی مایوس کن رہا اور صرف 67 رنز پر اس کی آدھی ٹیم پویلین لوٹ گئی۔

پہلی اننگز میں ناقابل شکست 142رنز بنانے والے بریتھ ویٹ نے دوسری اننگز میں بھی مرد بحران کا کردار ادا کیا اور اور ایک اینڈ سنبھالے رکھا۔ ڈاؤرچ نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ دونوں بیٹسمینوں نے چھٹی وکٹ کی ناقابل شکست شراکت میں 47 رنز بناکر پاکستانی بولرز کی امیدوں پر پانی پھیردیا۔

چوتھے روز جب کھیل ختم ہوا تو بریتھ ویٹ 44 اور ڈاؤرچ 36 رنز کے ساتھ پاکستان کی جیت کی راہ میں آہنی دیوار بنے کھڑے تھے۔

پاکستان کی جانب سے یاسر شاہ نے تین اور وہاب ریاض نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

اس سے قبل پاکستان نے 87 رنز 4 کھلاڑی آؤٹ پر اپنی نامکمل اننگز شروع کی۔ اظہر علی 45 اور سرفراز احمد19 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔ پاکستان کو پہلا نقصان اس وقت اٹھانا پڑا جب سرفراز احمد 42 رنز بناکر بشو کی گیند پر براوو کو کیچ دے بیٹھے۔

محمد نواز بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور صرف 19 رنز بناکر پویلین کی راہ لی۔ اظہر علی نروس نائنٹیز کا شکار ہوکر 91 رنز پر آؤٹ ہوگئے۔

محمد عامر 8، وہاب ریاض ایک اور یاسر شاہ صفر پر آؤٹ ہوئے۔

اس طرح پاکستان کی پوری ٹیم دوسری اننگز میں 208 رنز بناسکی، یوں ویسٹ انڈیز کو میچ جیتنے کیلئے 153 رنز کا آسان ہدف ملا ۔

ویسٹ انڈیز کی طرف سے ہولڈر نے کیریئر کی بہترین بولنگ کرتے ہوئے 30 رنزدے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔بشو نے 3 اور چیس نے ایک وکٹ حاصل کی۔

XS
SM
MD
LG