رسائی کے لنکس

سفارتی دستاویزا ت کی تشہیر پر وکی لیکس کی مذمت


ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ عبدالباسط

ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ عبدالباسط

امریکی وزارت خارجہ کو بھیجی گئی سفارتی دستاویز کے اقتباسات کے مطابق ایک جوہری تنصیب سے انتہائی افزودہ یورنیم کی منتقلی کے لیے امریکہ 2007 ء سے پاکستان پر دباؤ ڈالتا آیا ہے کیونکہ اُسے خدشہ ہے کہ یہ مواد غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی معلومات کے منظر عام پر آنے سے پاکستانی دائیں بازو کی قوتوں کے اُن خدشات کو بظاہر تقویت ملی ہے کہ امریکہ دراصل پاکستان کے جوہری ہتھیاروں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔

پاکستان نے وکی لیکس کی طرف سے خفیہ امریکی سفارتی دستاویزات کے انٹر نیٹ پر اجراء کو تشویش ناک امر قرار دیتے ہوئے اس اقدام کی مذمت کی ہے ۔

دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”اس قسم کی سرکاری دستاویزات کا اس طرح منظر عام پرآنا کسی طور بھی مناسب نہیں۔ “

امریکی وزارت خارجہ کو بھیجی گئی سفارتی دستاویز کے اقتباسات کے مطابق ایک جوہری تنصیب سے انتہائی افزودہ یورنیم کی منتقلی کے لیے امریکہ 2007 ء سے پاکستان پر دباؤ ڈالتا آیا ہے کیونکہ اُسے خدشہ ہے کہ یہ مواد غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی معلومات کے منظر عام پر آنے سے پاکستانی دائیں بازو کی قوتوں کے اُن خدشات کو بظاہر تقویت ملی ہے کہ امریکہ دراصل پاکستان کے جوہری ہتھیاروں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا ہے کہ یورینیم منتقل کرنے کی امریکی تجویز پر بات چیت ہوئی تھی لیکن امریکہ پر واضح کیا جاچکا ہے کہ اب یہ جوہری مواد پاکستان کی ملکیت ہے اور اس کی واپسی سے متعلق امریکی تجاویز ہر گز قابل قبول نہیں ہیں۔ ”جہاں تک ایٹمی فیسیلیٹی کا تعلق ہے تو واضح کرتا چلوں کہ جو ریسرچ نیوکلیئر ری ایکٹر ہے اور جو اس کا ایندھن ہے وہ امریکہ نے ہی 1960 کی دہائی میں پاکستان کوفراہم کیا تھا اور ماضی قریب میں امریکہ نے ایک تجویز دی تھی کہ یہ ایندھن امریکہ کو واپس کردیا جائے تو اس حوالے سے بات ہورہی ہے۔ پاکستان نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ یہ ہماری ملکیت ہے اور اس کی واپسی امریکہ کو نہیں ہوسکتی ۔“

عبدالباسط کا کہنا ہے کہ وکی لیکس کی طرف سے سفارتی دستاویزات کے اجراء کا پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر کوئی منفی اثر نہیں ہو گا۔”پاک امریکہ تعلقات مثبت سمت بڑھ رہے ہیں اور ہمارے اختلافات بھی ہیں کچھ معاملات پر اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے لیکن ان اختلافات کے باوجود بھی دونوں ممالک میں یہ میچورٹی ہے کہ ہم اپنے تعلقات کو آگے بڑھا رہے ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ ان دستاویزات کے منظر عام پر آنے سے اس عمل پر کوئی منفی اثر پڑے گا۔“

پاکستانی ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور تمام ممالک کو مل جل کر تعاون کی فضا میں کام کرنا ہے ۔ ”یہ ہمارے باہمی مفاد میں ہے کہ دہشت گردی کا قلع قمع کیا جائے تو میں نہیں سمجھتا کہ ان خفیہ دستاویزات کے منظر عام پر آنے سے ہماری مشترکہ کاوشوں اورجدوجہد میں کسی قسم کا رخنہ پیدا ہوگا۔ یہ ہمارے باہمی مفادات میں ہے اور یہ جاری رہے گی۔“

عراقی اور پاکستانی رہنماؤں پر شاہ عبداللہ کی سخت تنقید

وکی لیکس کی طرف سے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو جاری کی گئی خفیہ سفارتی دستاویزات کے مطابق بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے مذاکرات میں سعودی عرب کے شاہ عبداللہ پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور عراقی وزیر اعظم نوری المالکی پر’بے تکلفی‘سے کڑی تنقید کیا کرتے تھے۔

اس سال کے اوائل میں امریکی وزارت خارجہ کو بھیجی گئی معلومات کے مطابق سعودی شاہ نے ایک عراقی عہدے دار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ” تُم اور عراق میر ے دل میں بستے ہو لیکن وہ آدمی( وزیر اعظم نُوری کمال المالکی) نہیں“۔

بقول شاہ عبداللہ کے صدرزرداری پاکستان کی ترقی کی راہ میں ” سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور جب سر غیر صحت مند ہوتو سارا جسم متاثر ہوتا ہے۔“

صدر آصف علی زرداری

صدر آصف علی زرداری

تاہم صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے اپنے فوری ردعمل میں وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاکستانی صدر آصف علی زرداری سعودی عرب کے فرماں روا شاہ عبداللہ کو اپنا بڑا بھائی سمجھتے ہیں اور وکی لیکس کی طرف سے جاری کی گئی معلومات کا مقصددو اہم برادر مسلمان ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے۔

XS
SM
MD
LG