رسائی کے لنکس

پاکستان سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں حالیہ برسوں کے دوران پانی کے سکڑتے ہوئے ذخائر اور غیر فعال استعمال کی وجہ سے صورتحال دگرگوں ہونے کے شواہد مل چکے ہیں۔

زمین پر زندگی کا ایک اہم اور بنیادی جز پانی ہے لیکن فی زمانہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، ماحولیاتی تبدیلیوں اور پانی کے غیر فعال استعمال کی وجہ سے اس کے ذخائر میں کمی واقع ہورہی ہے۔

ہفتہ کو دنیا بھر میں پانی کا عالمی دن اس عزم کے ساتھ منایا گیا کہ ہر ملک کے عوام کو پانی کی قدر و اہمیت سے آگاہی دیتے ہوئے ان میں اس کے فعال اور محتاط استعمال کے بارے میں شعور کو بڑھایا جائے۔

پاکستان سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں حالیہ برسوں کے دوران پانی کے سکڑتے ہوئے ذخائر اور غیر فعال استعمال کی وجہ سے صورتحال دگرگوں ہونے کے شواہد مل چکے ہیں۔

حال ہی میں صوبہ سندھ کے علاقے تھرپارکر میں کم بارشوں کی وجہ سے خشک سالی نے قحط کو جنم دیا جس سے درجنوں انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ سینکڑوں مویشی بھی موت کا شکار ہوچکے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ صورتحال پنجاب کے صحرائی علاقے چولستان تک بھی پھیل سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں آبادی کے ایک بڑے حصے کی پینے کے صاف پانی تک رسائی نہیں اور اسی بنا پر آلودہ یا مضر صحت پانی کے استعمال سے پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کے باعث ہر سال بچوں سمیت سینکڑوں افراد موت کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔

ماہرین اور غیر سرکاری تنظیمیں ایک عرصے سے ملک میں نئے آبی ذخائر کی تعمیر سمیت پانی کے فعال استعمال کے لیے پالیسی سازی پر زور دیتی آئی ہیں۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ حکومت اس امر سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کے خیال میں بھی اب وقت آگیا ہے کہ اس پر پوری طرح چوکس ہوکر کام شروع کیا جائے۔

صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں پانی کے غیر فعال استعمال کو روکنے کی طرف توجہ دینا انتہائی ضروری ہوگیا ہے۔

"اگر ہم نے پانی کو ذخیرہ نہ کیا اس کے فعال استعمال کو نہ بڑھایا تو ہم شدید قحط کا شکار ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ پاکستان اس خطے میں بھی ہے جہاں ماحولیاتی تبدیلیوں کا سب سے زیادہ اثر ہوگا اور گلیشیئرز کے پگھلنے سے 40 فیصد تک ہمارے دریائوں کا پانی متاثر ہوسکتا ہے اس لیےہمیں نہایت چوکس ہو کر کام کرنے ضرورت ہے۔"

انھوں نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا کہ فوری طور پر پانی کے غیر فعال استعمال کو روکنے کے لیے قومی پالیسی تشکیل نہ دی گئی تو آئندہ 20 سالوں میں صورتحال سنگین شکل اختیار کر جائے گی۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 1950 کی دہائی کے دوران پاکستان میں فی کس استعمال کے لیے 5300 کیوبک میٹر پانی دستیاب تھا جو اب کم ہو کر 1100 کیوبک میٹر رہ گیا ہے اور اگر یہ سطح ایک ہزار کیوبک میٹر تک پہنچتی ہے تو پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوگا جو پانی کی قلت کا شکار ہیں۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس تناظر میں یہاں پانی کی کمی غذائی قلت کا باعث بھی بن سکتی ہے لہذا ماہرین یہ مشورہ دیتے آئے ہیں کہ آبپاشی کے جدید اور موثر طریقوں کو متعارف کروا کر میٹھے پانی کے ذخائر کو بچایا جاسکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG