رسائی کے لنکس

اشتہاری مواد میں ممنوعہ اسلحے کی تفصیلات کی بنا پرپاکستانی اسٹال بند

  • عادل زیب

اشتہاری مواد میں ممنوعہ اسلحے کی تفصیلات کی بنا پرپاکستانی اسٹال بند

اشتہاری مواد میں ممنوعہ اسلحے کی تفصیلات کی بنا پرپاکستانی اسٹال بند

چھ ستمبر تک جاری رہنے والی چار روزہ بین الاقوامی دفاعی نمائش میں 90 ممالک سے 1200 دفاعی اداروں نے جدید اسلحے اور دفاعی سازوسامان کی نمائش کی۔

نمائش میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے وزارتِ دفاع کے دو اداروں، پاکستان آرڈننس فیکٹری اور ڈفنس ایکسپورٹ پروموشن آرگنائزیشن کے اسٹال پر برطانوی رکنِ پارلیمنٹ کیرولین لوکس کی جانب سے اشتہاری مواد میں کلسٹر بموں سمیت دیگر ممنوعہ اسلحے کی تفصیلات اور فروخت کے لیے پیش کیے جانے کی نشاندہی کے باعث جمعرات کے روز بند کردیے گئے تھے۔

دفاعی سازوسامان کی نمائش کے منتظم ادارے Defense & Security Equipment International کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستانی دفاعی اداروں کے اسٹال بند کرنے کا فیصلہ برطانوی حکومت سے مشورے کے بعد کیا گیا۔

ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اپنے طور پر اِس بات کی مکمل تحقیقات کریں گے کہ ممنوعہ دفاعی سازو سامان کو فروغ دینے والے اشتہاری مواد میں کیسے شامل کیا گیا۔

افغانستان کی حالیہ جنگ میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ڈیزی کٹر بموں کے استعمال پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا تھا جِس کے بعد برطانیہ نے کلسٹر بموں کے استعمال پر پابندی اور اِس کی لین دین کو ممنوعہ قرار دیا تھا۔

نمائش کے منتظمیں کلسٹر بموں کے خلاف حال ہی میں لبنان میں دوسری انٹرنیشنل کانفرنس کی میزبانی کرچکے ہیں۔

اُدھر، لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن دفاعی نمائش کے منتظمین کی اِس بات سے متفق نہیں کہ پاکستانی اداروں کے اسٹالز کو ممنوعہ اسلحے کی فروخت کے باعث بند کیا گیا۔ لیکن اُنھوں نے تسلیم کیا کہ کم وقت ملنے کے باعث شاید اشتہاری مواد میں کوئی غلطی ہوئی ہو۔

XS
SM
MD
LG