رسائی کے لنکس

کرکٹ: پاک بھارت مقابلہ، ’کوئی بھی کچھ بھی کر سکتا ہے‘


Pak-vs-India

Pak-vs-India

حالیہ ریکارڈ کو دیکھا جائے تو پاکستان اور بھارت دونوں ہی ٹیموں کی کارکردگی کمزور رہی ہے۔ لیکن، یہ پاکستان بھارت کرکٹ مقابلہ ہے، جس مقابلے میں کوئی بھی کچھ بھی کر سکتا ہے۔ عرفان ابتدائی اوروں میں ٹاپ آرڈر کی وکٹیں لے سکتا ہے، کوہلی دھول چٹا سکتا ہے، ’بوم بوم لالا‘ انہونی کو ہونی کر سکتا ہے

15 فروری کو پاکستان ورلڈ کپ کا اپنا پہلا میچ بھارت کے خلاف کھیلے گا۔ فاسٹ بالر جنید خان اور ابتدائی بلے باز محمد حفیظ کی انجری کے باعث، راحت علی اور ناصر جمشید کی ٹیم میں شمولیت سے ٹیم کتنی مظبوط ہوئی ہے، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

پاکستان نے برطانیہ کے خلاف پریکٹس میچ 4 وکٹوں سے جیت لیا۔ برطانیہ نے 50 اوروں میں پاکستان کو 251 کا ہدف دیا جو پاکستان نے 48.5 اوروں میں پورا کر لیا۔

پاکستان نے یہ میچ تو جیت لیا، لیکن بیٹنگ میں صرف مصباح 91، عمر اکمل 65 اور حارث سہیل 33 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔ ناصر جمشید صرف 4 بالوں تک کھڑے ہو سکے۔ احمد شہزاد 2 رنز بنا کر واپس لوٹے، یونس خان جن پر پاکستانی بیٹنگ انحصار کر رہی ہے کہ وہ 1992 کے میانداد کا رول نبھائیں گے، ایک بار پھر ناکام ہو گئے اور صرف 19 رنز بنا پائے۔

اس سے پہلے، بنگلہ دیش کے خلاف انہوں نے 22 رنز بنائے تھے۔ سہیب مقصود جنہیں آج کا انضمام کہا جا رہا ہے، صرف 20 رنز بنا پائے۔ راحت علی آسٹریلیا تو پہنچ گئے ہیں، لیکن فی الحال گراوٴنڈ کے باہر ہی بیٹھتے ہیں۔

بھارت کے خلاف میچ میں اصل ٹیسٹ بالنگ کا ہوگا، کیونکہ بھارتی ٹیم بڑے سکور کرنے کے لیے جانی جاتی ہے۔ بھارت کے ابتدائی بلے بازوں سے لے کر ساتویں نمبر تک سبھی کھلاڑی دھواں دار اننگز کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؛ جبکہ پاکستان کے بالنگ اٹیک میں محمد عرفان، وہاب ریاض اور شاہد آفریدی ہی تجربہ کار کھلاڑی ہیں۔

برطانیہ کے خلاف کارکردگی دیکھ کر یاسر شاہ کو باقی میچوں میں نہ کھلانا بے وقوفی ہوگی۔ اب کپتان مصباح الحق، کوچ وقار یونس اور چیف سلیکٹر معین خان کو یہ فیصلہ کرنا ہے آیا پانچواں بالر اسپشلسٹ ہوگا یا پھر حارث سہیل، احمد شہزاد اور سہیب مقصود سے یہ اوور کروائے جائیں گے۔

بھارت کی ٹیم تین مہینے سے آسٹریلیا کے دورے پر مسلسل ناکامی اور تھکاوٹ کا شکار ہے۔ لیکن، بھارت کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ 10 فروری کو افغانستان کے خلاف میچ میں اوپنر روہت شرما نے اس میچ میں 150 رنز سکور کیے، سوریش رائنا نے 75 اور اجنکا رہانے نے ناقابل شکست 88 رنز سکور کیے۔ بھارت نے افغانستان کو 364 رنز کا حدف دیا اور میچ 153 رنز سے جیت لیا۔

اس سے پہلے 8 فروری کو آسٹریلیا کے خلاف 372 رنز کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش میں بھارت کی ٹیم 265 رنز بنا کر 45.1 اووروں میں آوٴٹ ہو گئی تھی۔ لیکن اس میچ میں دوسرے ابتدائی بلے باز شیکھر دھؤن نے 59 اور مڈل آرڈر امبتی رائڈو نے 53 رنز بنائے تھے۔

کمزور ٹیموں کے ساتھ میچ کا موازنہ کیا جائے تو پاکستان نے بنگلہ دیش کے خلاف 246 رنز کا ہدف 48.1 اورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر پورا کیا۔ اس میچ میں بھی پاکستان کے پہلے تین کھلاڑی ناکام ہوئے، جبکہ سہیب مقصود نے ناقابل شکست 93 رنز بنائے۔

حالیہ ریکارڈ کو دیکھا جائے تو پاکستان اور بھارت دونوں ہی ٹیموں کی کارکردگی کمزور رہی ہے۔ لیکن، یہ پاکستان بھارت کرکٹ مقابلہ ہے، جس مقابلے میں کوئی بھی کچھ بھی کر سکتا ہے۔ عرفان ابتدائی اوروں میں ٹاپ آرڈر کی وکٹیں لے سکتا ہے، کوہلی دھول چٹا سکتا ہے، ’بوم بوم لالا‘ انہونی کو ہونی کر سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG