رسائی کے لنکس

منیٰ میں مرنے والے پاکستانیوں کی تعداد 52 ہو گئی

  • عشرت سلیم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

وزیر مذہبی امور سردار یوسف کا کہنا تھا کہ ان افراد میں وہ پاکستانی شامل نہیں جو پہلے سے سعودی عرب میں مقیم تھے یا دوسرے ممالک سے سفر کر کے سعودی عرب پہنچے تھے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے مذہبی اُمور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ منیٰ بھگدڑ میں ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد 52 ہو گئی ہے جب کہ اب بھی 39 پاکستانی شہری لاپتا ہیں۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے منیٰ کے مقام پر مناسک حج کے دوران کم از کم 769 ہلاکتیں ہوئیں جب کہ 900 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

سردار محمد یوسف نے کہا کہ ہلاک ہونے والے 19 پاکستانی حاجیوں کی تدفین کر دی گئی ہے جب کہ زخمی پاکستانیوں میں سے 12 جدہ، منیٰ اور مکہ کے اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ یہ تعداد ان حاجیوں کی ہے جو سرکاری اسکیم یا پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کے تحت حج کے لیے سعودی عرب گئے تھے۔

سردار یوسف کا کہنا تھا کہ ان افراد میں وہ پاکستانی شامل نہیں جو پہلے سے سعودی عرب میں مقیم تھے یا دوسرے ممالک سے سفر کر کے سعودی عرب پہنچے تھے۔

تاہم اُنھوں نے بتایا کہ حکومت تمام لاپتا پاکستانیوں کی تلاش کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

متعدد حاجیوں نے مناسک حج کے دوران بھگدڑ کی وجہ پولیس کی طرف سے حجاج کے لیے مختص راستوں کی مبینہ طور پر اچانک بندش اور بدانتظامی کو قرار دیا۔

ادھر ایران نے کہا کہ ہے منیٰ میں بھگڈر سے مرنے والے ایرانیوں کی تعداد 464 ہو گئی ہے جو اس حادثے میں کسی ایک ملک کے مرنے والے شہریوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

اس سے قبل ایرانی حکام نے کہا تھا کہ 240 ایرانی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 200 کے قریب لاپتا ہیں۔

ایرانی حکام نے اس واقعے کے بعد سعودی عرب پر سخت تنقید کی ہے جب کہ ایرنی شہریوں نے تہران میں سعودی سفارتخانے کے باہر مظاہرے بھی کیے۔

دونوں حریف ممالک نے بدھ کو ہونے والے مذاکرات میں مرنے والے ایرانیوں کی میتوں کو جلد سے جلد وطن واپس بھیجنے پر اتفاق کیا۔

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے سعودی عرب کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ ایرانی حاجیوں کی میتیں واپس نہیں بھیجے گا تو اسے ’’سخت‘‘ تنائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مختلف سالوں میں حج کے دوران بھگدڑ کے متعدد ہلاکت خیز واقعات ہو چکے ہیں، مگر اس سال ہونے والی اموات کی تعداد 1990 میں ہونے والی 1,400 اموات کے بعد سب سے زیادہ تھی۔

XS
SM
MD
LG