رسائی کے لنکس

مذاکرات پارلیمان کے ذریعے ہونے چاہیئں: خورشید شاہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کرنے والی دونوں جماعتوں عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے کارکن بدستور دھرنا دیئے ہوئے ہیں جب کہ اس صورت حال کو سلجھانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

اختلافات کے باوجود رابطوں اور بات چیت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

پارلیمان میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے ہفتہ کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات یا مفاہمت آئین اور پارلیمان کے ذریعے ہونے چاہیں۔

’’ہم نے بار ہا سب سے کہا ہے کہ اس ملک میں پارلیمان موجود ہے یہ فیصلے پارلیمان کو کرنے چاہیئں، یہ جو غور و غوض ہے یا مفاہمت ہے وہ پارلیمان کے ذریعے ہونی چاہیئے پارلیمان ہی ایسا ادارہ ہے جو اس ملک کو مستحکم سیاست دے سکتا ہے لوگوں کی امیدیں اس پارلیمان سے بندھی ہوئی ہیں اس آئین سے بندھی ہوئی ہیں۔‘‘

لیکن احتجاج کرنے والی دونوں ہی جماعتوں کے قائدین طاہر القادری اور عمران خان کہہ چکے ہیں کہ وہ جلد حتمی لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

طاہرالقادری اور عمران خان نے ایک بار پھر وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کیا۔

وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے احتجاج کرنے والی جماعتوں کے رہنماؤں سے کہا کہ وہ اپنا دھرنا ختم کریں کیوں کہ اُن کے بقول اس سے ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

’’جو کاروبار ی طبقہ ہے اس کا صبر اب جواب دینے لگ گیا ہے خود اسلام آباد کے اندر جو مختلف مارکیٹیں ہیں ان کے نمائندے آ کر ہم سے مطالبہ کر رہے ہیں آپ ہماری خلاصی کروائیں اور اس صورت حال کو ختم کریں اور شہر کو خالی کروائیں۔‘‘

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ احتجاج اور دھرنے کی بنیاد پر وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ غیر آئینی ہے اور اسے کسی طور قبول نہیں کیا جائے گا۔

’’وہ دونوں کہتے ہیں کہ ہمیں استعفیٰ چاہیئے اب یہ پوری قومی اسبملی کہہ چکی ہے، پوری سینٹ کہہ چکی ہے سول سوسائٹی کہہ چکی ہے کہ یہ استعفے کا مطالبہ غیر آئینی ہے ۔۔۔ اگر اس طرح چند ہزار لوگ لا کر آپ استعفیٰ لینے لگیں گے میں آج آپ کو دعویٰ سے کہتا ہوں کہ پاکستان کے اندر کوئی وزیراعظم ایک سال سے زیادہ حکومت نہیں کر سکے گا۔‘‘

وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ دو ہفتوں سے زائد عرصے سے سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور خاص طور پر پارلیمان اور اس کے اردگرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں اہلکار بدستور تعینات ہیں۔

تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ دھرنا دینے والی جماعتوں کے حامیوں اور کارکنوں کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما راجہ ظفر الحق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حکومت ہر حال میں تحمل کا مظاہرہ کرے گی۔

’’تو شاید دھرنے والوں کا خیال ہو کہ روز وہ کفن باندھ لیتے ہیں کہ کہتے ہیں کہ ہمیں مارو گولی اور جو تشدد کرنا ہے کرو اور ان کی تو شاید خواہش ہو گی کہ حکومت تشدد کرے اور قومی سطح پر ایک بحران پیدا ہو حکومت بدنام ہو اور ملک پوری دنیا میں بدنام ہو رہا ہے۔‘‘

تحریک انصاف نے ہفتہ کو ملک کے دیگر چار شہروں لاہور، فیصل آباد، کراچی اور ملتان میں بھی دھرنے دیئے۔ تاہم حکومت میں شامل عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے احتجاج سے انتشار پھیلنے کا خدشہ ہے۔

XS
SM
MD
LG