رسائی کے لنکس

پینٹاگان نے بتایا ہے کہ فضائی کارروائی کے دوران، ''ہر ممکن احتیاط سے کام لیا گیا''۔ تاہم، پھر بھی ''غیر ارادی طور پر'' انسانی آبادی کا کچھ نقصان ہوا

مارچ کے دوران کی گئی تفتیش سے پتا چلتا ہے کہ عراق اور شام میں داعش کے شدت پسند گروپ کے خلاف امریکی قیادت والے اتحاد کی فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں 45 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ اتوار کے روز جاری ہونے والے پینٹاگان کے ایک بیان کے مطابق، یہ زیادہ تر عراقی شہر موصل کے گرد و نواح کا علاقہ ہے۔

پینٹاگان نے بتایا ہے کہ فضائی کارروائی کے دوران، ''ہر ممکن احتیاط سے کام لیا گیا''۔ تاہم، پھر بھی ''غیر ارادی طور پر'' انسانی آبادی کا کچھ نقصان ہوا۔

اس رپورٹ میں 17 مارچ کو موصل میں داعش کے شدت پسند گروپ کو ہدف بنائے جانے والے واقعے پر ہونے والی چھان بین شامل نہیں۔ اُس فضائی حملے میں، مکینوں کے مطابق، 100 سے زائد شہری ہلاکتیں واقع ہوگئی تھیں۔

گذشتہ ماہ امریکہ نے تسلیم کیا تھا کہ اتحادی طیاروں نے ''نشاندہی کیےگئے مقام پر کارروائی کی تھی''۔ تاہم، یہ نہیں بتایا گیا کہ اِن میں شہری ہلاکتیں واقع ہوئیں۔

اتحاد کے اہل کاروں نے نظام الاوقات بتانے سے احتراز کیا ہے، آیا اُس واقعے پر کب تک رپورٹ مکمل کر لی جائے گی۔

پینٹاگان نے تسلیم کیا ہے کہ سنہ 2014، جب سے داعش کے خلاف فضائی کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے، اب تک عراق اور شام میں تحاد کی فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم 352 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

ادھر، سرگرم کارکن اور مبصرین گروپ اِن اعداد کا شمار زیادہ بتاتے ہیں۔ لندن میں قائم مبصر گروپ ''ایئر وارز'' کا کہنا ہے کہ سنہ 2014 سے اب تک عراق اور شام میں 3000 سے بھی زیادہ شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

سترہ مارچ کو عراق میں ہونے والی فضائی کارروائی کے بعد مقامی حکومت کے اہل کاروں اور اقوام متحدہ کی جانب سے موصل میں داعش کے خلاف لڑائی میں مزید احتیاط برتنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ فروری میں مغربی موصل میں شروع ہونے والی لڑائی کے نتیجے میں تقریباً 2000 پر مشتمل شہری آبادی کا علاج کیا گیا ہے، جسے صدمے کی نوعیت کی ذہنی بیماریاں لاحق تھیں۔ موصل کو واگزار کرانے کے لیے اکتوبر 2016ء میں لڑائی کا باضابطہ آغاز ہوا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG