رسائی کے لنکس

دوسری جنگ عظیم کی فلم بند ی کرنے والا فوٹوگرافر

  • جون سوہ
  • ندیم یعقوب

دوسری جنگ عظیم کے دوران 1943ءمیں بحر اوقیانوس میں واقع ایک چھوٹے سے جزیرے پر خوفناک لڑائی ہوئی۔ امریکی مرین سارجنٹ نارمن ہیچ اس وقت وہاں موجود تھے۔ بندوق کی بجائے ان کے پاس کیمرہ تھا اور جو تصویریں انہوں نے بنائیں، ان کی وجہ سے امریکہ میں جنگ کے بارے میں لوگوں کے خیالات بدلنے میں کافی مدد ملی۔نارمن اب واشنگٹن کے مضافات میں مقیم ہیں اور انہیں جنگ کے دن اب بھی یاد ہیں۔

انہیں تاریرا کی لڑائی میں کبھی نہیں بھولا۔اس جنگ میں جاپانیوں کے چار ہزار لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ 76 گھنٹوں کی لڑائی میں ایک ہزار سے زائد امریکی فوجی ہلاک اور تقریباً دوہزار دو سو زخمی ہوئے تھے۔

نارمن کی عمر اس وقت 91 سال ہے اور انہیں تقریباً 70 سال پہلے کی لڑائی کے بہت سے واقعات اب بھی یاد ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ جب آپ لڑائی میں جاتے ہیں تو آپ کا خون جوش مارتا ہے اور آپ اپنے کام میں لگ جاتے ہیں۔ میرا کام تصویریں کھینچنا تھا۔ جیسے بھی ممکن ہو، مجھے اچھی تصویریں کھینچنی تھیں۔

ان کے پاس 35ملی میٹر والا مووی کیمرہ تھا اور وہ فوجیوں کے ساتھ جزیرے پر اترے ۔ انہوں نے بتایا کہ کیمرے کے لینز سے دیکھتے ہوئے اور سٹوری کے خاکے بارے میں سوچتے ہوئے مجھے ایسے لگتا جیسے آپ فلم دیکھ رہے ہوں ۔ تو ایک لحاظ سے مجھے محسوس ہوا کہ میں اپنے ارد گرد ہونے والے واقعات سے بے نیاز ہوں۔

یہاں تک کہ جب انہوں نے اپنے ساتھیوں کو گولی لگتے دیکھا تو بھی انہوں نے اپنا کام جاری رکھا۔ نارمن نے بتایا کہ کئی دفعہ فوجی جو اگلی صفوں میں لڑ رہے ہوتے مجھ سے کہتے ، تم یہاں کیا کر رہے ہو۔ تمہیں یہاں رہنے کے ضرورت نہیں۔ تو میں کہتا کہ ضرورت ہے کیونکہ لوگوں کو پتہ چلنا چاہئے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ اور اصل میں یہ فلم دیکھ کر انہیں اس جنگ کے بارے میں معلوم ہوگا۔

امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ کو نارمن کی فلم کی نمائش کے لئے خاص اجازت دینی پڑی کیونکہ اس میں زخمیوں کی دل ہلا دینے والی تصویریں تھیں۔

انہوں نے ماضی کویاد کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت میں تب تک کسی نے بھی لڑائی کو اتنے قریب سے نہیں دیکھا تھا۔ تارا وا پہلی فلم تھی جس میں عوام نے حقیقی جنگ کو دیکھا ۔ اور اس میں ہمارے لوگ بھی تھے اور جاپانی بھی۔

نارمن کی فلم کے کچھ حصے ڈاکیو منٹری فلم With the Marines at Tarawaمیں بھی شامل کئے گئے جسے 1944ءمیں اسکر ایواڈ ملا تھا۔

اب ایک نئی ڈاکیومنٹری فلم Until They Are Home میں بھی ان کی بنائی ہوئی فوٹیج کو استعمال کیا گیا ہے۔ یہ فلم تاراوا جزیرے پر ستر سال پہلے ہلاک ہونے والے مرینز کے جسمانی اعضا کو تلاش کرکے ملک واپس لانے کی کوششوں کے بارے میں ہے۔

XS
SM
MD
LG