رسائی کے لنکس

پی آئی اے میں 'ہفتہ احتجاج'، آج بھی جہاز نہ اڑسکے


پی آئی اے میں 'ہفتہ احتجاج'، آج بھی جہاز نہ اڑسکے

پی آئی اے میں 'ہفتہ احتجاج'، آج بھی جہاز نہ اڑسکے

پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائن کے ملازمین کی ہڑتال کے باعث کراچی کا قائد اعظم انٹرنیشنل ائیر پورٹ اور اسلام آباد کا بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ائیرپورٹ پچھلے تین دنوں سے خبروں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ملازمین کی جانب سے ہڑتال اور احتجاج کے باعث آج کا دن اس حوالے سے اہم تھا کہ آج پی آئی اے کا کوئی بھی طیارہ ملکی فضاء میں بلند نہیں ہوسکا حالانکہ آج 250 پروازوں کو اڑان بھرنا تھی جن کے ذریعے 25ہزار سے زائد مسافروں کو اپنی اپنی منزلوں کی طرف روانہ ہونا تھا ۔

اگر چہ آج ملازمین کی نمائندہ تنظیموں کے نمائندوں اور مستعفی وزیر داخلہ رحمن ملک کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے لیکن رحمن ملک کا کہنا ہے کہ معاملات پایہ تکمیل تک پہنچنے میں تین چار دن لگ سکتے ہیں۔ احتجاج کا آج تیسرا دن تھا جبکہ مزید تین چار دن اور لگے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ملازمین کا احتجاج پورے ایک ہفتے جاری رہ سکتا ہے۔ ملازمین کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ پی آئی اے کے سربراہ اعجاز ہارون کو برطرف کیا جائے۔

آج ملک بھر میں پی آئی اے کی کارگو ترسیل بھی پوری طرح منسوخ رہی جبکہ بے نظیرانٹرنیشنل ائیرپورٹ اسلام آباد پررینجرز تاحال تعینات ہیں جبکہ رحمن ملک نے یقین دہانی کرائی تھی کہ رینجرز کو ہٹالیا جائے گا ۔ انہوں نے ملازمین کو ائیرپورٹ کے مخصوص حصے تک احتجاج کی اجازت بھی دی۔ اسلام آباد سے آج 27 پروازوں کو روانہ اور 26 پروازوں کو لینڈ کرنا تھا جو سب کی سب منسوخ کردی گئیں۔

پی آئی اے کو یومیہ 25 کروڑ روپے کی آمدنی ہوتی ہے جبکہ کارگو سے ہونے والی آمدنی اس کے علاوہ ہے لہذا ان تین دنوں میں ہونے والے نقصان کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں۔

کراچی ائیر پورٹ پر گزشتہ رات سے ہی احتجاج جاری تھا جس کے سبب آج ابو ظہبی، دوبئی، دمام، نیویارک سمیت دیگر شہروں سے آنے والی تمام پروازوں کو منسوخ کردیا گیا اور ائیرپورٹ کا عملہ معمول کا کام روک کر دن گزرنے کا انتظار کرتا رہا۔

ادھر اسلام آباد ایئرپورٹ سے بھی ہڑتال اور احتجاج کے باعث پی آئی اے کی کوئی پرواز روانہ نہ ہوسکی۔ ابوظہبی جانے والی پرواز پی کے 219کو منسوخ کردیا گیا۔ اندون ملک یعنی کراچی، لاہور، ملتان، گلگت اور چترال جانے والی پروازیں بھی منسوخ کردی گئیں۔ ہڑتالی ملازمین کا احتجاج دن بھر جاری و ساری رہا اور ایئرپورٹ کی بیرونی سڑک پر ٹریفک جام رہا۔

پشاورائیرپورٹ پر بھی آج کم و بیش ایسی ہی صورتحال رہی اوریہاں آنے اور جانے والی پانچ پروازیں منسوخ کی گئیں۔ ان میں دوبئی اوردوحہ سے آنے والی پروازیں شامل تھیں۔ پروازوں کی منسوخی کی وجہ سے مسافروں کوسخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ہڑتال کے سبب نجی ائیر لائنوں پرمسافروں کا دباوٴ بڑھ گیا۔

پروازوں کی منسوخی کا سب سے بڑا نقصان بھی قومی ائیر لائن کو ہی برداشت کرنا پڑے گا کیوں کہ قانون کے تحت پی آئی اے کو کرائے کے پیسے مسافروں کو واپس کرنا ہوں گے۔ یہ دوہرا نقصان ہے کیوں کہ ایک جانب پیسے واپس کرنا پڑیں گے تو دوسری جانب کام ٹھپ پڑا ہے۔

ہڑتال کی وجہ سے سبزیوں کی بیرون ملک برآمدبھی بری طرح متاثرہورہی ہیں۔ بحران کے باعث برآمدکنندگان کو کروڑوں روپے کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ جرمنی، فرانس اور برطانیہ پاکستانی سبزیوں کے بڑے برآمد کنندگان شمار ہوتے ہیں ۔

پی آئی اے کے ملازمین کی ہڑتال کے باعث پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی، بیٹسمین یونس خان اوراسد شفیق لاہور نہ پہنچ سکے ۔ یہ کھلاڑی آج رات نجی ایئرلائنز کے ذریعے لاہور روانہ ہوں گے جہاں سے وہ پاکستان ٹیم کے ہمراہ ڈھاکا روانہ ہوں گے۔

ہڑتال کی وجہ، متنازعہ فیصلہ

چھ جنوری کو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی جانب سے اپنے امریکی اوریورپی روٹس ترکش ایئرلائن کوفروخت کرنے کی خبرمنظر عام پر کیا آئی ایک ہنگامہ برپا ہوگیا۔ آٹھ جنوری کو پی آئی اے ملازمین نے اس کے خلاف پہلی آواز بلند کی اور پھر تو معاہدے کی مخالفت کا شور اس قدر تیزی سے پھیلا کہ بڑھتے بڑھتے زبردست احتجاج میں بدل گیا اور موجودہ صورتحال یہ ہے کہ پی آئی اے ملازمین کی جانب سے احتجاج کا آج تیسرا روزتھا۔

پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائن، ترکش ائیرلائن سے کئے گئے مبینہ معاہدے کے تحت اپنے مسافروں کوترکی کے شہر استنبول تک پہنچائے گی جہاں سے یہ مسافر امریکا اوریورپی ممالک کاسفرترکش ایئرلائن کے ذریعے کریں گے۔معاہدے پر عملدرآمدرواں سال مارچ سے شروع ہونا تھا مگر اس معاہدے کے خلاف اٹھنے والے رد عمل کے بعد اس کا مستقبل کیا ہوگا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ اس معاہدے کے مخالفین کا کہنا ہے یہ فیصلہ کمیشن کے حصول کے لئے کیاگیاہے جبکہ ائیرلائن حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ادارے اور ملک کے وسیع تر مفاد میں بنایا گیا ہے اور اس میں کوئی ذاتی مفاد شامل نہیں۔

معاہدے کے مخالفین کیا کہتے ہیں؟

پاکستان ایئرلائن کی یونینوں اور ایسوسی ایشنز یعنی پاکستان ایئرلائن پائلٹ ایسوسی ایشن (پالپا)، سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز آف پاکستان (سیپ)، پی آئی اے سینئر اسٹاف ایسوسی ایشن (پیاسا)، پیپلز یونٹی، سی بی اے اور ایئرکرافٹ ٹیکنالوجسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان (اٹاپ)، نے پی آئی اے اور ترکش ایئرلائن کے درمیان معاہدے کو ادارے کی مکمل تباہی قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے پر عمل درآمد کی صورت میں قومی ایئرلائن صرف مقامی روٹ تک محدود ہوجائے گی۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

ترکش ایئر لائن سے معاہدے کے بعد پی آئی اے منافع بخش روٹس سے حاصل ہونے والی بڑی آمدنی سے ہاتھ دھو بیٹھے گی اور اس کی آمدن کا بڑا حصہ ترکش ایئر لائن کے پاس چلا جائے گا۔ ان روٹس پر پی آئی اے کو اربوں روپوں کی آمدنی ہوتی ہے۔ ایوی ایشن ماہرین کے مطابق امریکا اور یورپ جانے والے مسافروں کی تعداد ترکش ایئر لائن کی طرف سے پی آئی اے کو دیئے جانے والے 130 مقامات کے مسافروں سے بہت زیادہ ہے۔

پی آئی اے فضائی بیڑہ۔ ایک نظر میں

پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن 5 سو پائلٹس اور 40جہازوں کے فضائی بیڑے پر مشتمل ہے ۔ان میں بوئنگ 777 کی تعداد9، ائیر بس 310 کی تعداد12، جمبو 747 کی تعداد 5، اے ٹی آر5 اور دیگر 4 بوئنگ 737 ائیر کرافٹس شامل ہیں۔

احتجاج کی سزا

ترک ائیر لائن سے معاہدے کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے پر پالپا کے صدر کیپٹن سہیل بلوچ سمیت ائیرلائن کے 7 پائلٹوں کو ملازمت سے برطرف کیاگیا جس کے بعد سے اب تک 28پائلٹس اور 40فضائی میزبان احتجاجاً رخصت پرہیں۔

XS
SM
MD
LG