رسائی کے لنکس

غربت کا مقابلہ موبائل فون سے


غربت کا مقابلہ موبائل فون سے

غربت کا مقابلہ موبائل فون سے

ان دنوں ایک بڑے پراجیکٹ پر کام جاری ہے جس سے یہ پرکھنے کی کوشش کی جائے گی کہ آیا موبائل فون کے استعمال سے غریبوں کی تربیت میں مدد دی جاسکتی ہے؟

ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا کی تین چوتھائی غریب آبادی کو موبائل فونز تک رسائی حاصل ہے۔

گذشتہ چندبرسوں سے موبائل فون رکھنے والے ان افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، جو اپنے فون پر مختلف سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کررہے ہیں۔ یہ سافٹ ویئر عموماً ’ایپس ‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ان کے ذریعے موبائل فونز پر ویڈیو گیمز کھیلی جاسکتی ہیں، مختلف ویب سائٹس میں جھانکا جاسکتاہے، آن لائن خریداری کی جاسکتی ہے، راستے ڈھونڈے جاسکتے ہیں، غرض یہ چھوٹے سائز کے سافٹ ویئر ، موبائل فون استعمال کرنے والوں کو بہت لاتعداد سہولتیں مہیا کررہے ہیں۔

اوراب عالمی اقتصادی فورم کے حالیہ اجلاس میں ایک نیا پراجیکٹ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جس میں موبائل فون پر استعمال کیے جانے والے سافٹ ویئر کی مدد سے غربت کم کرنے اور تعلیمی معیار بڑھانے کاکام لیا جائے گا۔

اس سافٹ ویئر کانام ’ ایپ بریج‘ ہے۔ نظریہ یہ ہے کہ مذکورہ سافٹ ویئر ماہرین کو مختلف کمیونیٹیز اور غیر سرکاری تنظمیوں یعنی این جی اوز سے منسلک کردے گا۔

یہ پائلٹ پراجیکٹ ایک عالمی اقتصادی فورم کے ذریعے ، جو ’ یوتھ گلوبل لیڈرز‘ کے نام سے موسوم ہے، چلایا جائے گا۔ اس میں 40 سال سے کم عمر تقریباً سات سو افرادشامل ہیں جن کا تعلق کاروبار، سول سوسائٹی ، حکومت اور تعلیمی اداروں سے ہے۔

مارگو ڈریکوز ، ’ ایپ بریج‘ نامی سافٹ ویئر کے بانی ہیں۔ ان کا کہناہے کہ ہمارے پاس یہ نادر موقع موجود ہے کہ ہم ان لوگوں کو سادہ تعلیم یا کسی کام سے متعلق تربیت فراہم کرسکیں ، جن کے پاس موبائل فون موجود ہیں اور جنہیں ان چیزوں کی شدید ضرورت ہے۔اور ہمارے لیے یہ بھی ایک شاندار موقع ہے کہ ہم ایسے افراد کو کسی چیز کے بارے میں معلومات فراہم کرسکیں جو ان کے پاس موجود ہے۔

سافٹ ویئر ’ ایپ بریج‘ کا ابتدائی ہدف وہ افراد ہیں جن کے پاس ایسے موبائل فون موجود ہیں ، جو سافٹ ویئر چلاسکتے ہیں۔ لیکن ضروری نہیں کہ وہ اپیل آئی فون جیسے سمارٹ فون ہی ہوں۔ بہت سے عام موبائل فونز میں یہ سہولت موجود ہے کہ وہ کئی طرح کے سافٹ ویئر چلاسکتے ہیں۔

ایس ایم ایس یا مختصر پیغامات کی سروس ٹیکسٹ میسج بھیجنے کے لیے ہوتی ہے۔ جب کہ تھری جی اور تیسری جنریشن کے موبائل فون بہتر رابطوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں ۔ ان کے ذریعے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے اور ویڈیو کالز سمیت بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔

مارگوڈریگوز کا کہناہے کہ ہم نے اپنے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک آن لائن پلیٹ فارم تخلیق کیا ہے، جو مقامی تنظیموں اور مقامی شراکت داروں کو کمیونٹی کی مخصوص ضرورتوں کی نشاندہی کرنے میں مدد دے گا اور ایسے مقامی رابطے مہیا کرے گا جن کی مدد سے لوگوں تک پہنچا جاسکے۔ اور پھر مقامی تنظیموں اور موبائل فون کے سافٹ ویئر بنانے والی عالمی کمیونٹی کے تعاون سے یونیورسٹوں کی مدد حاصل کی جائے۔

بعض صورتوں میں موبائل فون کے یہ سافٹ ویئر بہت زیادہ ٹیکنیکل نوعیت کے بھی ہوسکتے ہیں، مثال کے طورپر موٹرگاڑیوں کی دیکھ بھال یا برقی آلات یا اسی طرح کی دوسری چیزوں کے بارے میں معلومات وغیرہ۔

اس وقت ’ایپ بریج‘ ٹیلی مواصلاتی کمپنیوں ، تعلیمی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے۔ اس تنظیم کے تیارہ کردہ چند ابتدائی سافٹ ویئر مارچ میں موبائل فونز کے لیے دستیاب ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG