رسائی کے لنکس

رمادی میں بیچ بازار بہت بڑی ٹیلی ویژن اسکرین ایک چھوٹی سی کھانے کی دوکان کے قریب لگائی گئی ہے۔ اسٹور کے مالک نے بتایا کہ 'داعش نے عراق میں اپنی فوجی کارروائیوں کی وڈیو فلمیں دکھانا شروع کردی ہیں، اور پھر اُن پر تحویل میں لیے گئے فوجیوں کے اعترافی بیان دکھائے جاتے ہیں'

داعش کے شدت پسندوں نے رمادی کے عراقی شہر میں دیو قامت ٹیلی ویژن اسکرین لگادی ہیں، اور مقامی مکینوں کے مطابق، اِن کے ذریعے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ گذشتہ ماہ صوبے کے دارالحکومت پر قبضہ جمانے کے بعد وہ مزید عراقی علاقہ ہتھیا لیں گے۔

اہل تشیع سے تعلق رکھنے والی حکومت اپنے امریکی اتحادیوں کی مدد سے قدامت پسند گروہ کا تسلط خالی کرانے کی کوششیں کر رہی ہے، جس نے عراق کے تقریباً ایک تہائی رقبے پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اس وقت، ان کوششوں میں دھیان رمادی پر لگا ہوا ہے، جو سنی مسلک سے واسطہ رکھنے والے صوبہ انبار کا مرکزی علاقہ ہے۔

رمادی میں بیچ بازار ایک بہت بڑی اسکرین والا ٹیلی ویژن ایک چھوٹی سی کھانے کی دوکان کے قریب لگایا گیا ہے۔ اسٹور کے مالک نے بتایا کہ 'داعش نے عراق میں اپنی فوجی کارروائیوں کی وڈیو فلمیں دکھانا شروع کردی ہیں، اور پھر اُن پر تحویل میں لیے گئے فوجیوں کے اعترافی بیان دکھائے جاتے ہیں'۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، اُنھوں نے بتایا کہ 'کچھ پروگراموں میں نوجوان مردوں سے کہا جارہا ہے کہ وہ دولت اسلامیہ کے ضوابط کی پاسداری کریں، جب کہ نوجوانوں کو فوجی تربیت حاصل کرتے دکھایا جاتا ہے کہ ہتھیار کیسے استعمال کیے جاتے ہیں اور کس طرح لڑا جاتا ہے'۔

حکومت عراق جس کی فوج باغیوں کے خلاف لڑنے میں غیر موئثر رہی ہے، اُن کا تکیہ ایرانی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیائوں کے ساتھ ساتھ امریکی قیادت والی فضائی کارروائیوں پر ہے، تاکہ داعش کے زور کو توڑا جاسکے، جنھیں وہ دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔

داعش ہر اُس شخص کو راستے سے ہٹا دیتی ہے جسے وہ اپنا دشمن خیال کرتی ہے، ایسے میں جب وہ عراق اور ہمسایہ شام کے زیر تسلط علاقے پر خلافت قائم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

بدھ کے روز صدر براک اوباما نے داعش کے زیر تسلط رقبے کو خالی کرانے کے لیے عراقی افواج کی مدد کرنے کی غرض سے انبار میں مزید امریکی فوجی تعینات کرنے کے احکامات صادر کیے۔

اپنے حامیوں کی تعداد میں اضافے کے لیے، یہ شدت پسند گروہ سماجی میڈیا سائٹس اور وڈیوز استعمال کرتا ہے، جس میں عراقی حکومت کے فوجیوں اور مذہبی اقلیتوں کے لڑاکوں کو ہلاک کرنے سے متعلق رپورٹیں دکھائی جاتی ہیں۔

رمادی کے ایک ملازم پیشہ شہری کے بقول، 'ایسا لگتا ہے کہ وہ میڈیا کے ذرائع کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ اپنی ساکھ بحال کرسکے، اور نوجوان افراد کی حوصلہ افزائی ہو تاکہ وہ اُن کے گروہ میں شمولیت اختیار کریں۔'

مکینوں کا کہنا ہے کہ لگائی گئی دو دیو قامت اسکرینز کے قریب واقع ایک اسٹال پر نشریات کی 'کمپیکٹ ڈسکس' تقیم کی جارہی ہیں، جنھیں شدت پسندوں نے شمالی رمادی اور وسطی مارکیٹ میں نصب کیا ہے۔

سنہ2011 میں جب امریکی فوج کا انخلا ہوا، عراق میں ایک بار پھر فرقہ وارانہ لڑائی نمودار ہوئی ہے، جسے داعش کی جانب سے خودکش حملوں اور رقبے پر تسلط نے ہوا دی ہے۔

اتوا کے دِن، حکومتی افواج اور داعش کے شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ تاہم، کسی بھی جانب سے کوئی پیش قدمی نہیں ہوئی۔

XS
SM
MD
LG