رسائی کے لنکس

رائے شماری سے پہلے ہونے والے ایک سروے کے مطابق اس خطے کے 75 لاکھ باشندوں میں سے 80 فیصد اسپین سے زیادہ خود مختاری چاہتے ہیں

اسپین کے شمال مشرقی علاقے کیٹلونیا میں اسپین سے آزادی کے متمنی لاکھوں باشندوں نے ایک علامتی رائے شماری میں حصہ لیا جسے علاقائی رہنماؤں نے سراہا جبکہ اسپین کی حکومت نے اسے غیر قانونی قرار دے کر مسترد کر دیا۔

پیر کو منتظمین کی طرف سے جاری کیے گئے ابتدائی غیر سرکاری نتائج کے مطابق اب تک 20 لاکھ ووٹ گنے جا چکے ہیں جن میں سے 16 لاکھ لوگوں نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا۔

میڈرڈ کی حکومت کی طرف سے پولنگ پر پابندی تھی لیکن اس کے باوجود اس رائے شماری کا انعقاد کیا گیا اور اس عمل کو "شہریوں سے مشاورت" کے نام سے موسوم کیا گیا۔

علیحدگی نواز رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس عمل میں بھاری تعداد میں لوگوں کے حصہ لینے سے میڈرڈ میں حکام پر زیادہ سیاسی خود مختاری کے بارے میں بات چیت کے لیے دباؤ بڑھے گا۔

لیکن اتوار کو دیر گئے انصاف کے وزیر رافیل کیٹالا نے اسے "غیر واجب التعمیل رائے شماری" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ " سیاسی پروپیگینڈا ہے جس کی کوئی جمہوری حیثیت نہیں"۔

اس کے کچھ ہی دیر کے بعد ایک علاقائی رہنما آرتھر ماس نے کہا کہ اتوار کو 20 لاکھ سے زائد افراد نے (رائے شماری میں ) حصہ لیا اور انہوں نے اپنے حامیوں کو بتایا کہ یہ رائے شماری ایک، " تاریخی کامیابی" ہے اور کہا کہ کیٹلونیا کے باشندوں نے قابل تعمیل ریفرنڈم کا حق حاصل کر لیا ہے۔

رائے شماری سے پہلے ہونے والے ایک سروے کے مطابق اس خطے کے 75 لاکھ باشندوں میں سے 80 فیصد اسپین سے زیادہ خود مختاری چاہتے ہیں جبکہ ان میں سے 50 فیصد مکمل آزادی کے حق میں ہیں۔

کیٹلونیا اسپین کا سب سے امیر علاقہ ہے۔ اس کی بڑے عرصے سے آزادی کی خواہش کو اس وقت تقویت ملی جب گزشتہ کچھ سالوں سے ملک کو شدید کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑا۔

اس خطے نے 2006ء میں اپنے آپ کو باضابطہ طور پر ایک ریاست قرار دیا تھا جسے بعد میں اسپین کی آئینی عدالت نے غیر قانونی قرار دے دیا۔

XS
SM
MD
LG