رسائی کے لنکس

ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہوسکتی ہے، روسی صدر کا انتباہ


ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہوسکتی ہے، روسی صدر کا انتباہ
ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہوسکتی ہے، روسی صدر کا انتباہ

روس کے صدر دمیتری میدویدیف نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے ملک اور مغربی اقوام کے درمیان یورپ کیلیے مجوزہ میزائل دفاعی نظام کی تنصیب پر موجود اختلافات برقرار رہے تو اگلی دہائی کے دوران خطے میں ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ شروع ہوسکتی ہے۔

منگل کے روز روسی پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے اپنے سالانہ خطاب میں صدر میدویدیف نے کہا کہ اگر خطے کی تمام قوتیں مشترکہ دفاعی نظام کی تشکیل پر متفق نہ ہوئیں تو روس کو علاقے میں اپنی افواج کی تعیناتی پر غور کرنا ہوگا۔ روسی صدر نے امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ مزید اشتراک پر بھی زور دیا ۔

رواں ماہ کے آغاز میں پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں ہونے والے نیٹو سربراہ اجلاس کے موقع پر روس اور نیٹو ممالک نے یورپ کیلیے نئے میزائل دفاعی نظام کی تنصیب کے معاملے پر تعاون کی راہیں تلاش کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

امریکہ نئے میزائل دفاعی نظام کا حامی ہے جبکہ روس کی جانب سے اس نظام کی تنصیب کی شدید مخالفت کی جاتی رہی ہے۔ روسی صدر پہلے ہی یہ مطالبہ کرچکے ہیں کہ مشترکہ دفاعی نظام میں روس کی شرکت سے قبل اسے اس بات کی ضمانت دی جائے کہ دفاعی نظام کی تشکیل اور متعلقہ معاملات میں اسکی رائے کودیگر ممالک کے برابر اہمیت حاصل ہوگی۔

منگل کے روز اپنے خطاب صدر میدویدیف نے آئندہ تین سالوں کے دوران روس میں افراطِ زر کی شرح 5ء7 فی صد سے کم کرکے 5 فی صد تک لانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کو اپنا مالی خسارہ کم کرنے اور معیشت کی بہتری کیلیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG