رسائی کے لنکس

نئے سال کے موقع پر پاکستان میں سکیورٹی کے انتظامات سخت

  • عشرت سلیم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

نئے سال کے موقع پر پاکستان کے بڑے شہروں میں اُن مقامات کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگ مختلف تقریبات میں شرکت کر کے نئے سال کی آمد کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

دنیا بھر کی طرح سال نو کے موقع پر پاکستان میں بھی سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے۔

نومبر میں پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد یورپ اور دیگر مغربی ممالک میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ مزید حملوں کے خدشے کے باعث پیرس اور برسلز میں نیو ائیر کی تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں۔

نئے سال کے موقع پر پاکستان کے بڑے شہروں میں بھی اُن مقامات کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگ مختلف تقریبات میں شرکت کر کے نئے سال کی آمد کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

کراچی میں پولیس نے نصف شب کے بعد ڈبل سواری پر پابندی عائد کر رکھی ہے جبکہ کلفٹن کے علاقے میں 3,000 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مختلف حصوں میں تجارتی مراکز، شاپنگ مالز اور اہم شاہراہوں پر 1,500 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جن میں پولیس کمانڈوز اور ریسکیو 15 کی ٹیمیں بھی شامل ہیں۔

اس موقع پر ٹریفک پولیس بھی شہر کی پولیس کے ساتھ تعاون کرے گی اور مختلف علاقوں میں ٹریفک کنٹرول کرے گی۔

لاہور میں بھی پولیس نے مسیحوں کی عبادت گاہوں، شاپنگ مالز، عوامی مقامات اور اہم عمارتوں کے باہر سکیورٹی بڑھا دی ہے۔

اس سے قبل اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے رواں ماہ کے اواخر میں پاکستانی دارالحکومت میں ممکنہ دہشت گرد حملے کا انتباہ جاری کرتے ہوئے امریکی شہریوں کو نئے سال اور کرسمس کی چھٹیوں کے موقع پر مصروف عوامی مقامات سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔

امریکی سفارت کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا اس دہشت گرد حملے کے ممکنہ اہداف عبادت گاہیں اور تجارتی مراکز ہو سکتے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں ملک میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں سے اگرچہ پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے مگر منگل کو شمالی مغربی صوبے خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں قومی شناختی کارڈ جاری کرنے والے ادارے نادرا کے دفتر کے باہر ایک مہلک خود کش حملہ کیا گیا جس میں 26 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG