رسائی کے لنکس

صومالیہ:قحط اور امن وامان کی صورتحال سے نقل مکانی میں اضافہ

  • ماریامہ ڈیالو

صومالیہ:قحط اور امن وامان کی صورتحال سے نقل مکانی میں اضافہ

صومالیہ:قحط اور امن وامان کی صورتحال سے نقل مکانی میں اضافہ

خشک سالی اور قحط کی وجہ سے صومالیہ کے لاکھوں باشندے اپنا گھر بار چھوڑ کر امداد کی تلاش میں دارالحکومت ، موگادیشو، یا ہمسایہ ملکوں میں منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ لیکن اقوامِ متحدہ کے غذا کے عالمی پروگرام اور دوسری ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ نقل مکانی میں اضافے کی وجہ صومالیہ میں جاری خانہ جنگی اورعسکریت پسند گروپ الشباب کی کارروائیاں بھی ہیں۔

کینیا میں ہگاڈیرا کے استقبالیہ مرکز میں امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کی تعداد میں جون سے اب تک زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ ایمرجینسی ریسپانس افسرالیکس سیکائی کہتے ہیں’’یہاں روزانہ تقریباً 300 سے 400 لوگ آیا کرتے تھے لیکن اب یہ تعداد 1200 ، بلکہ 1300 سے بھی زیادہ ہو گئی ہے ۔ آنے والوں کی تعداد میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے اور ہم مزید لوگوں کی توقع کر رہے ہیں۔‘‘

لوگوں کے گھر چھوڑنے کی بڑی وجہ یقیناً صومالیہ کے بہت سے حصوں میں غذا اور پانی کی کمی ہے ۔ لیکن اقوامِ متحدہ کی پناہ گزینوں کی ایجنسی کے علاقائی ڈائریکٹر ونسنٹ کوچکٹل کہتے ہیں کہ لڑائی اور ظلم و ستم کی وجہ سے بھی لوگ کیمپوں کا رخ کر رہے ہیں۔’’آپ کینیا اور ایتھیوپیا کے لوگوں سے بات کریں، اور ان سے کہیں کہ دو منٹ میں بتاؤ کہ تم نے اپنا گھر کیوں چھوڑا، تو وہ کہیں گے کہ قحط کی وجہ سے ۔ لیکن اگر آپ انہیں 30 منٹ دیجیئے ، تو وہ آپ کو ان مظالم کی داستان سنائیں گے جو الشباب اور دوسرے گروپوں نے ان پر ڈھائے ہیں ۔‘‘

کوچیٹل نے ان زیادتیوں کی جو تفصیل بتائی اس میں یہ واقعہ بھی شامل تھا’’بلاد کے علاقے میں کوچن کے 20 گھرانوں نے اسٹیڈیم میں پناہ لی ہوئی تھی۔ الشباب نے ان تمام گھرانوں سے کرایے کا مطالبہ کیا۔ ان کے پاس کرایے کے پیسے نہیں تھے ۔ انہیں اسٹیڈیم سے نکال دیا گیا ۔‘‘

ایلن جوری غذا کے عالمی پروگرام سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ کہتےہیں کہ قرنِ افریقہ کے اس ملک کے اندر کے علاقے میں امدادی کام کی سخت ضرورت ہے ۔’’اس وقت جنوب کے تمام علاقو ں میں ایمرجینسی کے حالات ہیں۔ دو مخصوص علاقوں کے قحط زدہ ہونے کا اعلان کر دیا گیا ہے، لیکن سچی بات یہ ہے کہ اگر فوری طور پر ملک کے اندر مدد نہ پہنچائی گئی، تو اگلے ایک یا دو مہینوں میں، پورے جنوبی صومالیہ میں قحط کے حالات پیدا ہو جائیں گے۔‘‘

لیکن انھوں نے انتباہ کیا کہ کسی مخصوص تنظیم کو الزام دینا صحیح نہیں ہو گا۔’’آپ کو مقامی حکام سے بات چیت میں بڑی ہوشیاری اورتخلیقی اپج سے کام لینا ہوگا۔ چند نام لے کر پوری قوت سے پریس اور میڈیا میں انہیں اچھالنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ اس سے فائدے کے بجائے الٹا نقصان ہو سکتا ہے ۔‘‘

بین الاقوامی ایجنسی آکسفیم کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا بحران ہے جو قابو سے باہر ہوتا جا رہا ہے اور بین الاقوامی برادری نے اس پر قابو پانے کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے ہیں۔ سمہر آرایا قرنِ افریقہ کے لیے اس گروپ کے علاقائی پالیسی مشیر ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’یہ صورتِ حال بہت سی چیزوں کی وجہ سے پیدا ہو ئی ہے ۔ اس علاقے میں شدید غربت ہے، غذائی اشیا ء لوگوں کی پہنچ سے باہر ہیں، بچے جنگوں کے دوران بڑے ہوئے ہیں، یہ ایسا ملک ہے جہاں کوئی مؤثر حکومت نہیں ہے، اور جسے بہت سے علاقائی مسائل کا سامنا ہے ۔ بین الاقوامی برادری صومالیہ کے مسائل سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اس کی کوششیں نا کافی ہیں۔‘‘

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ صومالیہ کے 37 لاکھ لوگوں کو ہنگامی پیمانے پر امداد کی ضرورت ہے ۔ اس نے اندازہ لگایا ہے کہ اگرتمام محاذوں پر فوری طور پر کارروائی نہیں کی جاتی تو ان لوگوں کی تعداد میں 25 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG